جمعہکینماز
جمعہکینمازمیںلمبیقراءتکرنا
سوال:۔
جمعہ کی نماز میں بہت سے افراد ایسے بھی آجاتے ہیں جو کہ بیمار ہوں یا معذور ہوں، اس کے علاوہ بھی بہت سی مجبوریاں ہوسکتی ہیں۔ جمعہ کے روز یہاں ایک اِمام صاحب نماز کی اِمامت کرتے ہیں، لیکن خدا معلوم کہ کس مضمون کے پروفیسر ہیں کہ وہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اِمامت کے کیا آداب ہیں؟ قراء ت کے فن سے قطعی ناواقف ہونے کے باوجود لمبی قراء ت فرماتے ہیں، اور جس انداز سے پڑھتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ میری نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ ان کے غلط پڑھنے اور لمبی لمبی سورتیں غلط انداز سے زیر زبر کی غلطیوں کے ساتھ پڑھنے سے میرا ذہن بہت اُلجھتا ہے۔ جمعہ کی نماز میں باہر صحن میں گرمی اور وہ بھی شدید نوعیت کی، لوگ کھڑے ہیں، وہ لمبی سورتیں پڑھنے کی کوشش فرماتے ہیں، ایک دن تو میرے سامنے ایک بڑے صاحب چکراکر گرگئے۔ کیا ایسے اِمام صاحب کے سمجھانے کا کوئی طریقہ ہے؟ حدیثِ نبوی کی روشنی میں فرمائیں کہ نمازِ جمعہ کے لئے کیا حکم ہے؟ اور غلط قرآن پڑھنے کا کیا عذاب ہے؟ اور اس کا کون کون ذمہ دار ہے؟
جواب:۔
غلط پڑھنے والے کی اِمامت جائز نہیں،(۱) اور نماز میں بیماروں، کمزوروں کی رعایت کرنے کا حکم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح اِرشاد ہے کہ جو شخص اِمام ہو، وہ نماز ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں کوئی بیمار ہوگا، کوئی کمزور ہوگا، کوئی حاجت مند ہوگا۔(۲)
- (۱) إذا أمّ أمّیّ امیا وقارئا فصلاۃ الجمیع فاسدۃ عند أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالٰی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۸۵)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا صلّی أحدکم للناس فلیتخفف فإن فی الناس الضعیف والسقیم وذا الحاجۃ۔ (مسلم ج:۱ ص:۱۸۸، باب أمر الأئمۃ بتخفیف الصلاۃ فی تمام)۔

