بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

کیا‌سننِ‌جمعہ‌کے‌لئے‌تعینِ‌جمعہ‌ضروری‌ہے؟

سوال:۔

سننِ جمعہ کے لئے تعینِ جمعہ کو آپ نے ضروری تحریر فرمادیا ہے، حالانکہ کتبِ فقہ میں تصریح موجود ہے کہ سننِ نماز کے لئے مطلق نیت کافی ہے، آپ بمع حوالہ وضاحت کیجئے۔

جواب:۔

تعینِ جمعہ کو میں نے ضروری نہیں لکھا، سائل نے یہ پوچھا تھا کہ جمعہ کی سنتوں میں نیت ظہر کی کی جائے یا سنتِ جمعہ کی؟ اس کے جواب میں لکھا تھا کہ: ’’سنتِ جمعہ کی نیت ہوتی ہے، سنتِ ظہر کی نہیں۔‘‘ رہا یہ کہ سنت کے صحیح ہونے کے لئے تعینِ نیت شرط ہے یا نہیں؟ یہ الگ مسئلہ ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ: ’’سنت بغیر تعین کے بھی ادا ہوجاتی ہے، تعین نیت اس کے لئے شرط نہیں۔‘‘(۱)

  1. (۱) ثم إن کانت الصلاۃ نفلًا یکفیہ مطلق النیۃ، وکذالک إذا کانت سُنَّۃً فی الصحیح، ھدایۃ، والتعیین أفضل وأحوط ۔۔۔ والمعتبر فی النیۃ عمل القلب، لأنھا الْإرادۃ السابقۃ للعمل اللاحق فلا عبرۃ للذکر باللسان۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۷۸، باب شروط الصلاۃ التی تتقدمھا، طبع قدیمی، أیضًا: رد المحتار ج:۱ ص:۴۱۷، باب شروط الصلاۃ)۔ ۱