جمعہکینماز
خطبۂجمعہکےدورانخاموشیاورلاؤڈاسپیکرکااِستعمال
سوال:۔
جمعہ کے خطبے کے دوران مکمل خاموشی اختیار کرنے اور یہ کہ سلام کا جواب تک نہ دینے کے اَحکامات ہیں، مسجد میں موجود لوگ تو کسی حد تک اس کی پابندی کرسکتے ہیں، لیکن جبکہ مولوی صاحب اَذان کے لاؤڈاسپیکر پر خطبہ پڑھ رہے ہوں تو اس صورت میں گھروں میں موجود ہزاروں مرد اور عورتیں، سڑکوں پر گزرتے اور بازاروں میں خرید وفروخت کرتے ہوئے لوگ، نماز کی تیاری اور مختلف کاموں کو اَنجام دینے میں مصروف لوگ، واضح اور صاف طور پر خطبے کے الفاظ سننے کے باوجود اس کے اِحترام میں خاموشی اِختیار نہیں کرسکتے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ اس طرح اَذان کے لاؤڈاسپیکر پر پڑھنے سے اس کا اِحترام نہ ہونے کی صورت میں اس کا وبال کس کے سر ہوگا؟ آیا مولوی صاحب یا ان افراد کے جن کے کانوں میں آواز آرہی ہو اور وہ اِحترام کرنے سے قاصر ہوں؟ معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح لاؤڈاسپیکر پر خطبۂ جمعہ پڑھنے کا کیا مقصد ہے؟
جواب:۔
مسئلہ یہ ہے کہ پہلی اَذان پر ہر قسم کا کاروبار بند کردینا، اور نمازِ جمعہ کے لئے جانا واجب ہوجاتا ہے، اَذانِ جمعہ کے بعد کاروبار میں مشغول ہونا حرام ہے،(۱) اس لئے بازاروں میں خرید وفروخت کرنے والوں کے بارے میں تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اَذانِ جمعہ سن کر نمازِ جمعہ کے لئے نہ آنا خود اتنا بڑا گناہ ہے کہ تین جمعے ایسا کرنے سے دِل پر نفاق کی مہر لگ جاتی ہے، جو توبہ کے بغیر مرتے دم تک نہیں ٹوٹتی۔(۲) ایسے لوگ اگر کاروبار کی وجہ سے خطبۂ جمعہ نہیں سنتے تو اس میں قصور ان کے نفاق کا ہے نہ کہ خطبے کی آواز کا۔
جہاں تک جمعہ کی تیاری کرنے والوں کا تعلق ہے، تو کیا جمعہ تیاری خطبہ شروع ہونے کے بعد کی جاتی ہے؟ جمعہ کی تیاری تو یہ ہے کہ آدمی کم سے کم خطبہ شروع ہونے سے پہلے تو مسجد میں موجود ہو، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازے پر بیٹھ جاتے ہیں، اور پہلی، دُوسری، تیسری اور چوتھی گھڑی میں آنے والوں کے نام علی الترتیب لکھتے رہتے ہیں، اور جب اِمام خطبے کے لئے نکلتا ہے تو وہ اپنے دفتر لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں اور ذکر یعنی خطبے کے سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ گویا خطبہ شروع ہونے کے بعد جو لوگ آتے ہیں، ان کے ناموں کا اِندراج ان صحیفوں میں نہیں ہوتا، اور ان کی حاضری نہیں لگتی۔(۳) اس لئے نمازِ جمعہ کی تیاری کو خطبے تک مؤخر کرنا نہایت غلط اور بُرا ہے، اِلّا یہ کہ کبھی کسی خاص عذر کی وجہ سے ایسا ہوجائے تو معذوری ہے۔
جہاں تک گھر کی مستورات کا تعلق ہے، ان کے ذمے جمعہ کو آنا اور خطبہ سننا فرض نہیں،(۴) تاہم اگر گھروں میں خطبے کی آواز آرہی ہو اور وہ اس کے اِحترام میں خاموشی اِختیار کریں تو ان کے لئے بھی سعادت ورحمت کا موجب ہے۔ سڑکوں پر گزرتے ہوئے لوگوں کے کان میں اگر خطبہ جمعہ کی آواز آرہی ہو تو سڑکوں پر چیختے چِلّاتے اور شور مچاتے چلنا عیب کی بات ہے، جو اِنسانی وقار کے خلاف ہے۔
خلاصہ یہ کہ آپ نے جتنے اُمور ذِکر کئے ہیں، ان میں کوئی بات بھی ایسی نہیں جو لاؤڈاسپیکر پر خطبہ دینے سے مانع ہو، تاہم اگر خطبے کی آواز مسجد تک محدود رہے تو اچھا ہے۔
- (۱) ویجب السعی وترک البیع بالأذان الأوّل۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۹)۔ أیضًا: قال أبو جعفر: وإذا زالت الشمس یوم الجمعۃ، جلس الْإمام علی المنبر، وأذن المؤذن بین یدیہ، وامتنع الناس من الشراء والبیع وأخذوا فی السعی إلی الجمعۃ ۔۔۔إلخ۔ قال أبوبکر بن أحمد: وذالک لقول اللہ عزّ وجلّ: ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ﵞ، فانتظمت الآیۃ المعانی، الأذان للجمعۃ ولزوم السعی إلیھا، وترک الْإشتغال بالبیع۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۱۴، باب صلاۃ الجمعۃ)۔
- (۲) عن أبی الجعد الضمری وکانت لہ صحبۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من ترک ثلاث جمع تھاونا بھا طبع اللہ علٰی قلبہ۔ (أبو داوٗد ج:۱ ص:۱۵۹، باب التشدید فی ترک الجمعۃ)۔
- (۳) وعنہ (أی أبی ھریرۃ) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا کان یوم الجمعۃ وقفت الملائکۃ علٰی باب المسجد یکتبون الأوّل فالأوّل ۔۔۔ فإذا خرج الْإمام طَوَّوا صُحفَھم ویسمتعون الذکر۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۱۲۲، کتاب الصلاۃ، باب التنظیف والتکبیر، الفصل الأوّل، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
- (۴) لَا تجب الجمعۃ علی العبید والنسوان والمسافرین والمرضٰی۔ کذا فی محیط السرخسی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۴، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعۃ)۔

