جمعہکینماز
خطبےکےدوراندُعامانگنا،نیزدُوسریاَذانکاجوابدینا
سوال:۔
بعض حضرات جمعہ کے دونوں خطبوں کے دوران جبکہ اِمام پہلے خطبے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے بیٹھتا ہے، دونوں ہاتھ اُٹھاکر دُعا مانگتے ہیں، اسی طرح بعض حضرات اِمام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جانے والی دُوسری اَذان کے بعد ہاتھ اُٹھاکر دُعا مانگتے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟
جواب:۔
اِمام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ذِکر و دُعا کی اِجازت نہیں، بلکہ خاموش رہنا اور خطبے کا سننا واجب ہے، اس لئے نہ جمعہ کی اَذان کا جواب دیا جائے اور نہ خطبے کے دوران دُعا مانگی جائے، اِمام کی دُعا پر دِل میں آمین کہی جائے۔(۱)
- (۱) وإذا شرع فی الدعاء لَا یجوز للقوم رفع الیدین ولَا تأمین باللسان جھرًا فإن فعلوا ذٰلک أثموا۔ (شامی ج:۲ ص:۱۵۸)۔ قال أبوجعفر: ومن دخل المسجد یوم الجمعۃ والْإمام یخطب جلس ولم یرکع، وذالک لقول اللہ تعالٰی: وإذا قریٔ القراٰن فاستمعوا لہ وأنصتوا، فروی أنھا نزلت فی شأن الخطبۃ ۔۔۔ إذا دخل أحدکم المسجد والْإمام علی المنبر فلا صلاۃ لہ ولَا کلام حتّٰی یفرغ الْإمام۔ الحدیث۔ وأیضًا: إتفقوا علٰی أن من کان قاعدًا فی المسجد حتّٰی إبتدأ الخطبۃ لم یرکع کذالک الداخل، کما لم یختلف الداخل والجالس فی منع الکلام، والعلۃ الجامعۃ بینھما کونہ مأمورًا بإستماع الخطبۃ فی الحالین۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۳۱)۔

