جمعہکینماز
خطبۂجمعہکیاَذانسےلےکردورکعتفرضتکدُنیاویباتکرنا
سوال:۔
اُردو میں بیان کئے گئے وعظ کے بعد عربی کے خطبے کی اَذان سے لے کر دو رکعت نماز فرض جمعہ کی ادائیگی کے دوران کے وقفے میں اگر اِمامِ مسجد اِقامتِ نماز سے چند لمحے پہلے دُنیاداری کی کوئی بات کریں تو کیا وہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں کسی قسم کے شرعی نقطے یا حدود کو پھلانگنے کا مستوجب تو نہیں ہوتا؟ کیونکہ عربی میں خطبہ بھی نمازِ جمعہ کا مسلسل ایک حصہ ہوتا ہے، اس دوران کوئی بھی دیگر اُمور کے مسائل بیان کرنے چاہئیں یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔
جمعہ کے خطبے کے دوران بات چیت کرنا یا کسی اور عبادت میں مشغول ہونا منع ہے، خطبہ سننا واجب ہے، البتہ وقفے میں اِمام کوئی ضروری شرعی مسئلہ بیان کرسکتا ہے۔(۱)
ویحرم فی الخطبۃ ما یحرم فی الصلاۃ حتّی لَا ینبغی أن یأکل أو یشرب والْإمام فی الخطبۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۷، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعۃ، طبع رشیدیہ)۔
- (۱) قال أبو جعفر: ومن دخل المسجد یوم الجمعۃ والْإمام یخطب جلس ولم یرکع، وذالک لقول اللہ تعالٰی: ﵟ وَإِذَا قُرِئَ ٱلۡقُرۡءَانُ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ ﵞ، فروی أنھا نزلت فی شأن الخطبۃ، ومن جھۃ السُّنَّۃ ۔۔۔ قال (ابن عمر) سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إذا دخل أحدکم المسجد والْإمام علی المنبر فلا صلاۃ لہ ولَا کلام حتّٰی یفرغ الْإمام۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۳۰، ۱۳۱، باب صلاۃ الجمعۃ)۔

