بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

خطبہ‌جمعہ‌کے‌دوران‌دُرود‌شریف‌پڑھنے‌کا‌حکم

سوال:۔

جمعہ کے خطبہ کے دوران خطبہ میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسماء مبارک آتے ہیں تو گزارش یہ ہے کہ اس دوران خاموشی سے خطبہ سنا جائے یا دُرود شریف یا رضی اللہ عنہ کہا جائے؟

سوال:۔

جمعہ کی نماز سے پہلے جو خطبہ ’’عربی میں‘‘ پڑھا جاتا ہے، اس کے درمیان ایک آیت ایسی بھی آتی ہے جس میں دُرود پڑھنا لازمی ہوتا ہے، میری معلومات کے مطابق خطبہ کے دوران کسی قسم کی تسبیح و نماز جائز نہیں، چنانچہ دُرود شریف بھی نہ پڑھا جائے، کیونکہ اس آیت کے بعد خطیب خطبہ میں ہی دُرود پڑھ لیتا ہے، بآوازِ بلند جو تمام نمازیوں کی طرف سے دُرود ہوجاتا ہے، اس لئے نمازیوں کو دُرود پڑھنے کی ضرورت نہیں، لیکن میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ بآوازِ بلند دُرود شریف پڑھنا شروع کردیتے ہیں، حالانکہ خطبہ میں خاموشی کا حکم ہے۔

جواب:۔

خطبہ کے دوران زبان سے دُرود شریف پڑھنا جائز نہیں، خاموش رہنا چاہئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی آئے تو دِل میں بغیر زبان ہلائے دُرود شریف پڑھ لے،(۱) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بھی دِل میں رضی اللہ عنہم کہہ لے تو کوئی مضائقہ نہیں، مگر زبان سے نہ کہے۔

جواب:۔

سامعین اپنے دِل میں دُرود شریف پڑھیں، خطبہ کے دوران بلند آواز سے دُرود شریف پڑھنا جائز نہیں۔(۲)

  1. (۱) قولہ ولَا الکلام ۔۔۔ وکذالک إذا ذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم لَا یجوز أن یصلوا علیہ بالجھر بل بالقلب وعلیہ الفتویٰ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۲ ص:۱۵۸، باب الجمعۃ، مطلب فی شروط وجوب الجمعۃ)۔
  2. (۲) قولہ ولَا الکلام ۔۔۔ وکذالک إذا ذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم لَا یجوز أن یصلوا علیہ بالجھر بل بالقلب وعلیہ الفتویٰ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۲ ص:۱۵۸، باب الجمعۃ، مطلب فی شروط وجوب الجمعۃ)۔