بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

خطبہ‌کے‌دوران،‌اَذان‌کے‌بعد‌دُعا‌مانگنا

سوال:۔

جمعہ کے خطبہ کے دوران اَذان کے بعد دُعا مانگنا چاہئے یا نہیں؟ اور خطبہ کے بیچ میں دُعا مانگی جائے یا نہیں؟

جواب:۔

اِمام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ذکر و دُعا کی اجازت نہیں، بلکہ خاموش رہنا اور خطبہ کا سننا واجب ہے، اس لئے نہ جمعہ کی اَذان کا جواب دیا جائے، نہ خطبہ کے دوران دُعا مانگی جائے، اِمام کی دُعا پر دِل میں آمین کہی جائے۔(۱)

  1. (۱) وإذا خرج الْإمام فلا صلاۃ ولَا کلام ۔۔۔ سواء کان کلام الناس أو التسبیح أو تشمیت العاطس ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۷)۔ قال أبو جعفر: ومن دخل المسجد یوم الجمعۃ والْإمام یخطب جلس ولم یرکع، وذالک لقول اللہ تعالٰی: ﵟ وَإِذَا قُرِئَ ٱلۡقُرۡءَانُ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ ﵞ، فروی أنھا نزلت فی شأن الخطبۃ، ومن جھۃ السُّنَّۃ ۔۔۔ قال (ابن عمر) سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إذا دخل أحدکم المسجد والْإمام علی المنبر فلا صلاۃ لہ ولَا کلام حتّٰی یفرغ الْإمام۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۳۰، ۱۳۱، باب صلاۃ الجمعۃ، طبع دار السراج، بیروت)۔