بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

خطبہ‌جمعہ‌کے‌دوران‌نفل‌پڑھنا‌اور‌گفتگو‌کرنا

سوال:۔

اکثر نمازِ جمعہ میں دیکھنے میں آیا ہے کہ اِمام صاحب خطبہ دیتے ہیں اور بعض لوگ سنت یا نفل نماز پڑھتے رہتے ہیں، اور بعض آپس میں گفتگو کرتے ہیں، کوئی ادب کے ساتھ نہیں بیٹھتا، جس طرح مرضی ہو ٹانگیں پھیلاکر بیٹھ جاتے ہیں، اس مسئلہ پر حدیث کی روشنی میں جواب دیں، اور بیٹھنے کے متعلق بھی لکھیں کہ جب اِمام صاحب خطبہ شروع کریں تو جس طرح مرضی ہو بیٹھ جائیں یا کہ دو زانو ہوکر بیٹھا جائے؟

جواب:۔

خطبہ کے دوران نفل پڑھنا حرام ہے،(۱) سنتِ مؤکدہ اگر خطبہ سے پہلے شروع کرچکا تھا تو خطبہ کے دوران پوری کرلے اور ذرا مختصر کردے۔ خطبہ کے دوران کسی قسم کی گفتگو بھی حرام ہے، حدیث میں ہے کہ: ’’جس نے جمعہ کے دن خطبہ کے دوران دُوسرے کو چپ کرانے کے لئے ’’خاموش‘‘ کا لفظ کہا، اس نے بھی لغو کا ارتکاب کیا‘‘۔(۲) نیز ارشاد ہے کہ: ’’جو شخص جمعہ کے دن کسی لغو کا ارتکاب کرے، اس کے جمعہ کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے(۳)۔‘‘ بعض مسجدوں میں خطبہ کے دوران چندے کے لئے جھولی پھرائی جاتی ہے، یہ بھی ناجائز ہے،(۴) اور اس سے ثوابِ جمعہ ضائع ہوجاتا ہے۔ خطبہ کے دوران بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت مقرّر نہیں، جس طرح سہولت ہو بیٹھے،(۵) مگر ٹانگیں پھیلاکر بیٹھنا خلافِ ادب ہے، اس سے احتراز کرنا چاہئے، اور گھٹنے کھڑے کرکے ان پر سر رکھ کر بیٹھنا بھی دُرست نہیں، اس سے نیند آجاتی ہے۔

  1. (۱) إذا خرج الْإمام فلا صلاۃ ولَا کلام إلٰی تمامھا۔ (شامی ج:۲ ص:۱۵۸)۔ أیضًا: ومن دخل المسجد یوم الجمعۃ والْإمام یخطب جلس ولم یرکع وذالک لقول اللہ تعالٰی: ﵟ وَإِذَا قُرِئَ ٱلۡقُرۡءَانُ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ ﵞ، فروی أنھا نزلت فی شأن الخطبۃ۔ ومن جھۃ السُّنّۃ ۔۔۔ قال (ابن عمر) سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إذا دخل أحدکم المسجد والْإمام علی المنبر فلا صلاۃ لہ ولَا کلام حتّٰی یفرغ الْإمام۔ (مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۳۱، باب صلاۃ الجمعۃ)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قلت لصاحبک یوم الجمعۃ أنصت والْإمام یخطب فقد لغوت۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۲۲، باب التنظیف والتکبیر)۔
  3. (۳) عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یحضر الجمعۃ ثلاثۃ نفر، فرجل حضرھا بلغو فذٰلک حظہ منھا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۲۳، باب التنظیف والتکبیر)۔
  4. (۴) ویحرم فی الخطبۃ ما یحرم فی الصلاۃ حتّی لَا ینبغی أن یأکل أو یشرب والْإمام فی الخطبۃ کذا فی الخلاصۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۷، الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعۃ)۔
  5. (۵) إذا شھد الرجل عند الخطبۃ ان شاء جلس محتبیًا أو متربعًا أو کما تیسر ۔۔۔ ویستحب أن یقعد کما یقعد فی الصلاۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۸، الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعۃ)۔