جمعہکینماز
خطبہجمعہسنےبغیرنمازِجمعہاداکرنا
سوال:۔
خطبہ سنے بغیر جمعہ کی نماز نہیں ہوتی، جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جس مسجد میں خطبہ نہ ہو وہاں جمعہ کی نماز نہیں ہوسکتی، اور اگر آدمی دیر سے مسجد پہنچے اور کسی دُوسری مسجد میں بھی جماعت کا وقت باقی نہ رہا ہو اس صورت میں جب وہ مسجد میں پہنچتا ہے اور وہاں جماعت کھڑی ہوچکی ہے تو چونکہ اس نے خطبہ تو سنا ہی نہیں تو کیا اِمام کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کرسکتا ہے؟ اور کیا وہ نماز ہوجائے گی یا نہیں؟
جواب:۔
یہ تو صحیح ہے کہ جمعہ کی نماز خطبہ کے بغیر نہیں ہوتی،(۱) لیکن جو شخص ایسے وقت آیا کہ خطبہ ختم ہوچکا تھا، اس کی نماز ہوجاتی ہے،(۲) (اگرچہ دیر میں آنے کی وجہ سے لائقِ مؤاخذہ ہے)، بلکہ اگر نمازِ جمعہ کی ایک یا دونوں رکعتیں رہ جائیں اور التحیات میں آکر شریک ہو، جب بھی وہ جمعہ ہی کی دو رکعتیں پڑھے گا۔(۳)
- (۱) وشرائط ۔۔۔ المصر والجماعۃ والخطبۃ ۔۔۔إلخ۔ (فتح القدیر ج:۱ ص:۴۰۸، باب صلاۃ الجمعۃ)۔
- (۲) ولَا یشترط کونھم ممن حضر الخطبۃ کذا فی فتح القدیر۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۸، الباب السادس عشر)۔
- (۳) فی الدر المختار: ومن أدرکھا فی التشھد أو سجود سھو علی القول بہ فیھا یتمھا جمعۃ ۔۔۔إلخ۔ وفی ردالمحتار: ولھما أنہ مدرک للجمعۃ فی ھٰذہ الحالۃ حتّٰی تشترط لہ النیۃ الجمعۃ وھی رکعتان۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۲ ص:۱۵۸)۔ أیضًا: من أدرک الْإمام فی یوم الجمعۃ فی التشھد أو فیما سواہ صلّٰی ما أدرک معہ وقضی ما فاتاہ فی قول أبی حنیفۃ وأبی یوسف ۔۔۔ الحجۃ للقول الأوّل: قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ما أدرکتم فصلّوا وما فاتکم فاقضوا، ومعلوم أن المراد ما فاتکم من صلاۃ الْإمام ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۱۸، کتاب الصلاۃ)۔

