جمعہکینماز
خطبۂجمعہعربیزبانکےعلاوہکسیزبانمیںدینانیزکسیسرداریاحاکمکیتعریفکرنا
سوال:۔
خطبۂ جمعہ عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ نیز خطبہ اللہ اور رسول کی تعریف اور توصیف کے علاوہ کسی سردار یا حاکم کی تعریف میں پڑھا جاسکتا ہے؟
جواب:۔
عربی، اسلام کی ’’سرکاری زبان‘‘ ہے، اس لئے جمعہ اور عیدین کا خطبہ عربی کے سوا اور کسی زبان میں جائز نہیں۔(۱) خطبے میں یہ مضامین ہونے چاہئیں: حق تعالیٰ شانہ‘ کی حمد وثنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود شریف، توحید ورِسالت کی شہادت، مسلمانوں کو وعظ ونصیحت، خلفائے راشدینؓ اور آلؓ واَصحابؓ کا ذِکر، نیک سیرت حاکمِ اسلام کے لئے اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے دُعا۔(۲)
- (۱) تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں: جواھر الفقہ ج:۱ ص:۳۵۲۔ فإنہ لَا شک فی ان الخطبۃ بغیر العربیۃ خلاف السُّنّۃ المتوارثۃ من النبی صلی اللہ علیہ وسلم والصحابۃ فیکون مکروھًا تحریمًا۔ (عمدۃ الرعایۃ ھامش شرح الوقایۃ ج:۱ ص:۲۰۰)۔
- (۲) الخطبۃ تشتمل علٰی فرض وسنۃ فالفرض شیئان الوقت ۔۔۔ والثانی ذکر اللہ تعالٰی کذا فی البحر الرائق وکفت تحمیدۃ أو تھلیلۃ أو تسبیحۃ ۔۔۔ وأما سننھا فخمسۃ عشر ۔۔۔ البدائۃ بحمد اللہ ۔۔۔ الثناء علیہ بما ھو أھلہ ۔۔۔ الشھادتان ۔۔۔ الصلاۃ علی النبی علیہ الصلاۃ والسلام ۔۔۔ العظۃ والتذکیر ۔۔۔ زیادۃ الدعاء للمسلمین والمسلمات ۔۔۔ وذکر الخلفاء الراشدین وَالعَمَّیْنِ رضوان اللہ تعالٰی علیھم أجمعین مستحسن بذالک جری التوارث کذا فی التجنیس ۔۔۔ إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۶، الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعۃ)۔

