جمعہکینماز
غیرعربیمیںخطبۂجمعہ
سوال:۔
یہاں گلستانِ جوہر میں ایک مسجد ہے، اس مسجد میں جمعہ کا خطبہ سندھی میں دیا جاتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ جمعہ کے خطبے کی اَذان ہوتی ہے، اس کے بعد اِمام صاحب ایک آدھ جملہ عربی میں پڑھتے ہیں اور اس کے بعد سندھی میں شروع ہوجاتے ہیں، اور اس خطبے میں عجیب قسم کی باتیں ہوتی ہیں، اور کچھ ناقابلِ یقین واقعات جو اِمام صاحب اس خطبے کے دوران بیان کرتے ہیں۔ یہ سارا سلسلہ ۱۰ سے ۱۵ منٹ تک رہتا ہے، درمیانِ خطبہ توقف کرنے کے بعد ایک منٹ کا عربی میں خطبہ پڑھتے ہیں، اور پھر جمعہ کے لئے جماعت کھڑی ہوجاتی ہے۔ محترمی! عرض یہ ہے کہ آیا اس طرح خطبہ ادا ہوجاتا ہے یا نہیں؟ دُوسرا یہ کہ عربی ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبان ہے، یہ وہ زبان ہے جس میں قرآن نازل فرمایا گیا، آخر اس سے اِجتناب کیوں؟ محترمی! یہ فرمائیں کہ آیا وہ جمعہ کی نمازیں ادا ہوگئیں یا نہیں جو اس طرح ادا کی گئیں؟ بہرحال میں نے اب تک اپنی زندگی میں اس طرح اور زبان میں خطبہ دیتے ہوئے نہیں سنا، اِمام صاحب کو کوئی روک نہیں سکتا، کیونکہ یہاں کی زیادہ تر آبادی لاعلم لوگوں کی ہے۔
جواب:۔
خطبۂ جمعہ کا حکم (بعض اُمور کے اِعتبار سے) نماز کا ہے، جس طرح نماز کی قراء ت عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں نہیں ہوسکتی، اسی طرح خطبہ بھی غیرعربی میں نہیں ہوسکتا،(۱) گویا عربی اِسلام کی سرکاری زبان ہے۔ جو لوگ فارسی میں، اُردو میں، انگریزی میں یا کسی اور زبان میں خطبہ پڑھتے ہیں، وہ غلط کرتے ہیں۔ مگر چند جملے جو عربی کے بول لیتے ہیں، حضرت اِمامِ اعظمؒ کے نزدیک ان سے خطبے کا فرض ادا ہوجاتا ہے،(۲) اس لئے نمازِ جمعہ ادا ہوجائے گی، مگر خطبے میں ’’غیرسرکاری‘‘ زبان ملانے والے بے ڈھنگی بات کرنے کی وجہ سے گنہگار ہیں۔
- (۱) أیضًا۔
- (۲) فإن اقتصر علٰی ذکر اللہ جاز عند أبی حنیفۃ، وقالَا لَا بد من ذکر طویل یسمی الخطبۃ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۶۹)۔

