جمعہکینماز
دورانِخطبہاُنگلیوںمیںاُنگلیاںڈالکربیٹھنامنعہے
سوال:۔
ایک اِمام صاحب نے ایک سے زائد بار یہ فرمایا کہ خطبہ کے دوران ہاتھوں کی اُنگلیوں میں اُنگلیاں ڈال کر بیٹھنا ’’حرام‘‘ ہے، دین میں اس قسم کی پابندیوں کی کیا بنیاد ہے؟
جواب:۔
حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے، یہی ممانعت اس پابندی کی بنیاد ہے۔(۱)
- (۱) أبو ثمامۃ الحنّاط ان کعب بن عجرۃ أدرکہ وھو یرید المسجد أدرک أحدھما صاحبہ قال: فوجدنی وأنا مشبّک بیدیّ فنھانی عن ذٰلک وقال: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا توضأ أحدکم فأحسن وضوئہ ثم خرج عامدًا إلی المسجد فلا یشبّکنّ یدیہ فإنہ فی الصلاۃ۔ (باب ما جاء فی الھدی فی المشیٔ إلی الصلٰوۃ، سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۸۳)، وفی حاشیۃ سنن أبی داوٗد: ’’ان النھی والکراھۃ إنما ھی فی حق المصلی وقاصد الصلٰوۃ۔‘‘ (حاشیہ نمبر:۸، سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۸۳)۔

