بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

خطبہ‌جمعہ‌کے‌دوران‌صفیں‌پھلانگنا

سوال:۔

جمعہ کی نماز سے پہلے خطبہ ہوتا ہے اور اس کا سننا لازمی ہوتا ہے، اور جو لوگ جلدی آتے ہیں وہ آگے صفوں میں بیٹھ جاتے ہیں، جو لوگ بعد میں آتے ہیں وہ پیچھے صفوں میں یا جہاں جگہ ملتی ہے بیٹھ جاتے ہیں، یہ بات بالکل ٹھیک ہے، باوجود اس کے کچھ لوگ پہلی صفوں میں بیٹھنے کا بڑا اشتیاق رکھتے ہیں اور آتے دیر سے ہیں، اور آنے والوں کا طریقہ کچھ اس طرح ہوتا ہے جیسے ان کے لئے آگے کی صفوں میں جگہ خالی ہوتی ہے، حالانکہ اگلی صفوں میں کوئی جگہ نہیں ہوتی، اس کے باوجود وہ لوگ بیٹھے ہوئے نمازیوں کو ہاتھ کے ذریعہ ہٹاتے ہوئے آگے کی صف تک پہنچ جاتے ہیں، اور وہاں قطعی جگہ نہیں ہوتی، لیکن بیٹھے ہوئے نمازیوں کے درمیان ذرا سی جگہ بناکر بیٹھ جاتے ہیں، اس جگہ بنانے کے لئے صف کی دونوں جانب کے تقریباً نمازیوں کو تھوڑا تھوڑا کھسکنا پڑتا ہے، اور اس طرح سب نمازیوں کا خطبہ سننے سے دھیان اُٹھ جاتا ہے، لہٰذا جو لوگ ایسا کرتے ہیں یہ صحیح ہے یا غلط؟

جواب:۔

اگر اگلی صفوں میں جگہ ہو تو پھر آگے بڑھنے کی اجازت ہے، ورنہ جہاں جگہ ملے بیٹھ جائیں۔ جو صورت آپ نے لکھی ہے، اس طرح لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے بڑھنے سے جمعہ کا ثواب باطل ہوجاتا ہے، اس سے احتراز کرنا چاہئے۔(۱)

  1. (۱) عن عبداللہ ابن عمرو قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یحضر الجمعۃ ثلاثۃ نفر، فرجل حضرھا بلغو فذٰلک حظہ منھا، ورجل حضرھا بدعاء فھو رجل دعا اللہ إن شاء أعطاہ وإن شاء منعہ، ورجل حضرھا بإنصات وسکوت ولم یتخط رقبۃ مسلم ولم یؤذ أحدًا فھی کفارۃ إلی الجمعۃ التی تلیھا وزیادۃ ثلاثۃ أیام وذٰلک بأن اللہ یقول: من جآء بالحسنۃ فلہ عشر أمثالھا۔ رواہ أبوداوٗد۔ (مشکٰوۃ ص:۱۲۳، باب التنظیف والتکبیر، الفصل الثالث)۔