جمعہکینماز
جمعہکےخطبہمیںلوگوںکوکسطرحبیٹھناچاہئے؟
سوال:۔
جمعہ کے خطبہ کے درمیان اِمام تھوڑے سے وقفے کے لئے بیٹھتا ہے، عام طور پر دیکھنے میں آیا کہ لوگ اِمام کے بیٹھنے سے پہلے دو زانو ہوکر بیٹھتے ہیں، اور ہاتھ بھی نماز کی طرح باندھ لیتے ہیں، لیکن وقفے کے بعد قعدہ کی طرح ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیتے ہیں، کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے؟ اگر نہیں تو پھر صحیح طریقہ کیا ہے؟
جواب:۔
خطبہ جمعہ کے دوران کسی خاص ہیئت سے بیٹھنا مسنون نہیں، جس طرح سہولت ہو بیٹھیں، مگر اِمام کی طرف متوجہ رہیں، اور غور سے خطبہ سنیں،(۱) لوگوں کا جو دستور آپ نے ذکر کیا ہے، یہ خود تراشیدہ ہے، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔(۲)
- (۱) وکذا السُّنَّۃ فی حق القوم أن یستقبلوہ بوجوھھم لأن الْإسماع والْإستماع واجب للخطبۃ وإذا لَا یتکامل إلّا بالمقابلۃ۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۶۳، بیان شرائط الجمعۃ)۔
- (۲) إذا شھد الرجل عند الخطبۃ إن شاء جلس محتبیًا أو متربعًا أو کما تیسر، لأنہ لیس بصلاۃ عملًا وحقیقۃً ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۸، الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعۃ، کذا فی أغلاط العوام ص:۸۰، طبع زمزم پبلشرز)۔

