بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

جمعہ‌کے‌دن‌جلدی‌آنے‌والے‌اور‌دیر‌سے‌آنے‌والے‌لوگوں‌میں‌کون‌بہتر‌ہیں؟

سوال:۔

جمعہ کی نماز میں، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے، اس میں بچے، جوان اور بوڑھے تقریباً سب ہی شامل ہوتے ہیں، مگر زیادہ تر وہ حضرات بھی ہوتے ہیں جو اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ سارے کا سارا ثواب صرف مجھ کو ملے، اس میں زیادہ حصہ ادھیڑ عمر کے لوگوں کا ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا جمعہ کی نماز میں بہت سے حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جو نماز کے لئے بہت پہلے آجاتے ہیں، اور جمعہ کی نماز کا پورا فائدہ اُٹھاتے ہیں، اور دیکھا جائے تو ان کو فائدہ بھی ہوتا ہے، وہ نوافل ادا کرتے ہیں، سنتیں ادا کرتے ہیں، خطبہ سنتے ہیں، وغیرہ۔ اب دُوسرے حضرات ایسے ہوتے ہیں جو عین اس وقت آتے ہیں جب اِمام صاحب خطبہ دینا شروع کرتے ہیں، یا پھر خطبہ اِختتام پر ہوتا ہے، اور وہ بدحواسی کے عالم میں آتے ہیں۔ کیا یہ لوگ صحیح ہوتے ہیں، صحیح وقت پر آتے ہیں یا پھر غلط وقت پر؟ اس کے متعلق کیا کہا گیا ہے؟ اب وہ حضرات جن کا میں پہلے ذِکر کرچکا ہوں اتنی جلدی آتے ہیں کہ اُلٹے سیدھے وضو کیا، یا پھر وضو گھر سے کرکے آگئے، ایک ہاتھ میں جوتا یا چپل اور کہنیوں سے اُنگلیوں ناخنوں سے پانی ٹپکتا ہوا نمازیوں کے اُوپر سے چھلانگیں مارتے گزر جاتے ہیں، اور جوتے اور چپل میں باہر کی گندگی لگی ہوئی ہوتی ہے، ساتھ میں نمازیوں پر چھڑکتے ہوئے نمازی کے منہ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، یا پھر کوشش یہ کرتے ہیں کہ کسی طرح اِمام صاحب کے برابر میں جگہ مل جائے، تاکہ اِمام صاحب کے برابر کا ثواب ملے۔ کیا دِین میں ایسے لوگوں کے لئے زیادہ ثواب لکھا ہے؟ یا پھر ان لوگوں کے لئے کچھ نہیں کہا گیا؟

جواب:۔

آپ نے بڑے اہم مسئلے کی طرف توجہ دِلائی ہے۔ نمازِ جمعہ کے لئے جلدی آنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے، اور اس کے بہت فضائل بیان فرمائے ہیں۔ جمعہ میں آنے والوں کی حاضری درج کرنے کے لئے فرشتے مقرّر ہوتے ہیں، اور جب خطبہ شروع ہوتا ہے تو وہ اپنے صحیفے بند کرکے ذِکرِ اِلٰہی کے سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں،(۱) (گویا خطبہ شروع ہونے کے بعد جو لوگ آتے ہیں، ان کے ناموں کا اِندراج نہیں ہوتا)۔ اَذان ہونے کے بعد جمعہ کی تیاری کے علاوہ کسی کام میں مشغول ہونے کی ممانعت ہے، اس لئے اَذان کے فوراً بعد مسجد میں آنا ضروری ہے، اور اس وقت کاروبار کرنا ناجائز ہے۔(۲) جو لوگ بعد میں آئیں ان کو حکم ہے کہ پیچھے جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں، آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔ حدیث میں فرمایا ہے کہ جو لوگ دُوسروں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے جمعہ کا ثواب باطل ہوجاتا ہے۔(۳)

حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ اِرشاد فرما رہے تھے، ایک شخص آیا اور آگے بڑھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’بیٹھ جا! تو نے آنے میں دیر کی اور لوگوں کو اِیذا پہنچائی۔‘‘(۴) الغرض جمعہ کے لئے پہلے آنا چاہئے، تاکہ اِطمینان کے ساتھ سنتیں بھی پڑھ لیں، اِطمینان کی جگہ بھی مل جائے، وعظ ونصیحت بھی سن لیں فرشتوں کے رجسٹر میں نام بھی لکھا جائے، اور جو لوگ دیر سے آئیں وہ جگہ کی تلاش میں آگے نہ بڑھیں اور نمازیوں کے اُوپر سے پھلانگ کر نہ جائیں۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا کان یوم الجمعۃ وقفت الملائکۃ علٰی باب المسجد الأوّل فالأوّل ۔۔۔ فإذا خرج الْإمام طووا صحفھم ویستمعون الذکر ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص: ۱۲۲)۔
  2. (۲) ویجب السعی وترک البیع بالأذان الأوّل۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۹)۔ أیضًا: وإذا زالت الشمس یوم الجمعۃ، جلس الْإمام علی المنبر وأذن المؤذّنون بین یدیہ، وامتنع الناس من الشراء والبیع ۔۔۔ وذالک لقول اللہ عزّ وجلّ: ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ﵞ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۱۴)۔
  3. (۳) عن عبداللہ بن عمرو بن العاص قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ ومن لغا وتخطٰی رقاب الناس کانت لہ وزرًا۔ (الترغیب والترھیب ج:۱ ص:۲۹۳، ۲۹۴ طبع دار الکتب العلمیۃ)۔
  4. (۴) عن أبی الزاھریۃ قال: کنا مع عبداللہ بن بسر صاحب النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم الجمعۃ فجاء رجل یتخطی رقاب الناس فقال عبداللہ بن بسر: جاء رجل یتخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ والنبی صلی اللہ علیہ وسلم یخطب، فقال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إجلس! فقد آذیت۔ (أبو داوٗد ج:۱ ص:۱۵۹، کتاب الصلاۃ، باب تخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ)۔