جمعہکینماز
صاحبِترتیبپہلےفجرکیقضاپڑھےپھرجمعہاداکرے
سوال:۔
میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ اگر جمعہ کے روز فجر کی نماز نہ پڑھی جائے تو جمعہ کی نماز بھی نہیں ہوتی، یہ کہاں تک دُرست ہے؟
جواب:۔
آپ کے دوست نے جو مسئلہ ذکر کیا ہے وہ صاحبِ ترتیب کے لئے ہے، صاحبِ ترتیب وہ شخص ہے جس کے ذمہ پانچ سے زیادہ قضا نمازیں نہ ہوں،(۱) ایسے شخص کے لئے حکم ہے کہ مثلاً: اس کی فجر کی نماز قضا ہوگئی ہو تو جب تک فجر کی نماز نہ پڑھ لے ظہر کی جمعہ کی نماز نہیں پڑھ سکتا، اگر فجر کی نماز نہیں پڑھی اور جمعہ پڑھ لیا، بعد میں فجر کی نماز قضا کی تو جمعہ باطل ہوجائے گا، اور اسے ظہر کی نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی،(۲) اور جو شخص صاحبِ ترتیب نہ ہو اس نے اگر فجر کی نماز نہیں پڑھی اور جمعہ پڑھ لیا تو اس کا جمعہ صحیح ہوگیا،(۳) مگر اس کو قضاشدہ نمازیں ادا کرلینی چاہئیں۔
- (۱) صاحب الترتیب: من لم تکن علیہ الفوائت ستا غیر الوتر من غیر ضیق الوقت والنسیان۔ (قواعد الفقہ ص:۴۴)۔
- (۲) لو تذکر الفجر عند خطبۃ الجمعۃ یصلیھا مع أن الصلٰوۃ حینئذٍ مکروہ بل فی التتارخانیۃ انہ یصلیھا عندھما وإن خاف فوت الجمعۃ مع الْإمام ثم یصلی الظھر۔ (شامی ج:۲ ص:۶۷، باب قضاء الفوائت، مطلب فی تعریف الْإعادۃ)۔
- (۳) ویسقط الترتیب عند کثرۃ الفوائت وھو الصحیح ھٰکذا فی محیط السرخسی وحدّ الکثرۃ ان تصیر الفوائت ستا بخروج وقت الصلاۃ السادسۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۳، الباب الحادی عشر فی قضاء الفوائت)۔

