جمعہکینماز
بیکوقتجمعہاورظہردونوںکواداکرنےکاحکمنہیں
سوال:۔
مولانا صاحب! یہ بتائیے کہ جمعہ کے روز جمعہ اور ظہر کی نماز دونوں ادا کی جاتی ہیں؟ اور یہ کہ دونوں نمازیں ایک ہی وقت میں پڑھ سکتے ہیں؟
جواب:۔
جمعہ کے دن مردوں کے لئے جمعہ کی نماز ظہر کے قائم مقام ہے، اس لئے وہ صرف جمعہ پڑھیں گے، ظہر نہیں پڑھیں گے۔(۱) عورتوں پر جمعہ کی نماز فرض نہیں،(۲) ان کو حکم ہے کہ وہ اپنے گھر پر صرف ظہر کی نماز پڑھیں، اور اگر کوئی عورت مسجد میں جاکر جماعت کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ لے تو اس کی یہ نمازِ جمعہ بھی ظہر کے قائم مقام ہوگئی۔ خلاصہ یہ کہ جمعہ اور ظہر دونوں کو ادا کرنے کا حکم نہیں، بلکہ جس نے جمعہ پڑھ لیا، اس کی ظہر ساقط ہوگئی۔(۳)
- (۱) ولأن إقامۃ الجمعۃ مقام الظھر عرف بنص الشرع بشرائط الجمعۃ۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، الجماعۃ من شروط الجمعۃ ج:۱ ص:۲۶۷، طبع ایچ ایم سعید)۔ أیضًا: (فرض الوقت ھو الظھر، والجمعۃ بدل عنھا) قال (ومن صلٰی فی بیتہ یوم الجمعۃ الظھر، أجزأہ، ما لم یخرج بعد ذالک یرید الجمعۃ)۔ وذالک لأن فرض الوقت عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف ھو الظھر والجمعۃ بدل منھا۔ والدلیل علٰی ذالک قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: وأوّل وقت الظھر حین تزول الشمس۔ ولم یفرق بین الجمعۃ وغیرہ۔ (شرح مختصر الطحاوی، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ ج:۲ ص:۱۴۳، طبع دار السراج، أیضًا: المبسوط ج:۲ ص:۱۳۲ طبع دار الفکر)۔
- (۲) اما شروط الوجوب فستۃ فأوّلھا الذکورۃ فلا تجب علی المرأۃ۔ (حلبی کبیر ص:۵۴۸)۔ أیضًا: لَا تجب الجمعۃ علٰی مسافر ولَا عبد ولَا إمرأۃ ۔۔۔ وإن صلّوا أجزأھم وذالک لما حدثنا ۔۔۔ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: أربعۃ لَا جمعۃ علیھم: المرأۃ والعبد ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۴۱، باب صلاۃ الجمعۃ)۔
- (۳) ومن لَا جمعۃ علیہ أداھا جاز عن فرض الوقت۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۵، الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعۃ)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۴۱، ۱۴۳، طبع دار السراج، بیروت۔

