جمعہکینماز
کیاجمعہکےلئےصرفچارسنتدوفرضہیکافیہیں؟
سوال:۔
آج کل بالخصوص ایک غلط روایت عام ہوتی جارہی ہے کہ ایک تو ویسے ہی ہم نام نہاد مسلمان اللہ تعالیٰ کو اپنی روزمرّہ زندگی میں بہت کم یاد کرتے ہیں، اور نمازیں وغیرہ بھی نہیں پڑھتے، اور جمعہ کو اگر نمازِ جمعہ پڑھنے کے لئے مسجد آہی جاتے ہیں تو ہمیں واپس بھاگنے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ دو رکعت فرض کی ادائیگی کے بعد آدھی مسجد نمازیوں سے خالی ہوجاتی ہے۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، فرض نماز باجماعت اور مسجد میں اَدا کرنا افضل ہے، جبکہ سنتیں اور نوافل وغیرہ کی ادائیگی گھر پر زیادہ ثواب کے حصول کا سبب بنتی ہے، لیکن عام لوگوں کی اکثریت جو مسئلے کو نہیں سمجھتی، جن میں بالخصوص نوجوان اور بچے شامل ہیں، ان چند صحیح افراد کی تقلید میں جو مسئلے کو سمجھتے ہیں لاشعوری طور پر صرف دو رکعت کی ادائیگی کے بعد مسجد سے راہِ فرار اِختیار کرتے ہیں، اور گھر جاکر بقیہ نماز مکمل نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے پورے ہفتے کا قرض اُتار دیا ہے۔ کیا دو رکعت فرض کی ادائیگی سے جمعہ کی نماز ادا ہوجاتی ہے اور بقیہ رکعتیں پڑھنا ضروری نہیں؟ یہ مسئلہ اتنی وسعت اِختیار کرچکا ہے کہ وہ بچے جو آج بچے ہیں، نمازِ جمعہ کو صرف چار سنت اور دو فرض ہی کے برابر سمجھنے لگے ہیں۔
جواب:۔
پنج گانہ نماز اِسلام لانے کے بعد سب سے اہم فرض ہے، اس میں سستی اور کوتاہی کرنا سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے، حدیث میں فرمایا گیا (جس کا مفہوم ہے) کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے کی نماز کا حساب ہوگا، وہ نماز میں کامیاب نکلا تو اِن شاء اللہ باقی چیزوں میں کامیاب ہوگا، اور اگر نماز میں ناکام رہا، تو باقی چیزوں میں بدرجۂ اَوْلیٰ ناکام ہوگا۔(۱) اس لئے مسلمان بھائیوں کو فرض نماز میں ہرگز سستی نہیں کرنی چاہئے، اور نماز کا مسجد میں باجماعت ادا کرنا اِیمان کی علامت ہے، اور نماز باجماعت میں کوتاہی اور سستی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ اس لئے نماز باجماعت ادا کرنا اہم ترین واجب ہے۔(۲)
اور نماز کی سنتیں اور نوافل درحقیقت فرائض کی تکمیل کے لئے ہیں، کیونکہ جس درجے کے سکون واِطمینان، خشوع وخضوع اور حضورِ قلب کے ساتھ نماز اَدا کرنی چاہئے، ہم اس کا عشر عشیر بھی پورا نہیں کرتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے فرائض کی تکمیل کے لئے سنتیں اور نفل نماز مقرّر کردی تاکہ فرائض کی کمی ان سے پوری ہوجائے، اس لئے سنتیں بھی پورے اِہتمام سے ادا کرنی چاہئیں۔(۳) جمعہ کی نماز سے پہلے چار سنت مؤکدہ ہیں،اور جمعہ کی نماز کے بعد چار سنت مؤکدہ اور دو سنت غیرمؤکدہ ہیں۔(۴) ان میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمان بھائیوں کو توفیق عطا فرمائیں اور آخرت کی کامیابی نصیب فرمائیں۔
- (۱) عن حریث بن قبیصۃ قال: قدمت المدینۃ فقلت: اللّٰھم یسّر لی جلیسًا صالحًا، قال: فجلست إلٰی أبی ھریرۃ فقلت: انی سألت اللہ أن یرزقنی جلیسًا صالحًا، فحدثنی بحدیث سمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعل اللہ أن ینفعنی بہ، فقال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إن أوّل ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ من عملہ صلاتہ، فإن صلحت فقد أفلح وأنجح، وإن فسدت فقد خاب وخسر، فإن انتقص من فریضۃ شیئًا قال الربّ تبارک وتعالٰی: انظروا ھل لعبدی من تطوّع فیکمل بھا ما انتقص من الفریضۃ ثم یکون سائر عملہ علٰی ذالک۔ (ترمذی ج:۱ ص:۵۵، باب ما جاء فی أوّل ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ الصلاۃ)۔
- (۲) الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ لقولہ علیہ السلام الجماعۃ من سنن الھدیٰ لَا یتخلف عنھا إلّا منافق۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۲۱، باب الْإمامۃ)۔
- (۳) عن تمیم الداری قال: أوّل ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ الصلاۃ المکتوبۃ، فإن أتمھا وإلّا قیل: انظروا ھل لہ من تطوع؟ فأکملت الفریضۃ من تطوعہ، فإن لم تکمل الفریضۃ ولم یکن لہ تطوع أخذ بطرفیہ فیقذف فی النار۔ (کنز العمال ج:۸ ص:۳، کتاب الصلٰوۃ، طبع مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)۔
- (۴) (والسُّنّۃ قبل الجمعۃ أربع وبعدھا أربع) أما الأربع بعدھا فلما روی مسلم عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا صلیتم بعد الجمعۃ فصلّوا أربعًا، وفی روایۃ للجماعۃ إلّا البخاری: إذا صلّٰی أحدکم الجمعۃ فلیصلی بعدھا أربعًا وأوّل یدل علی الْإستحباب والثانی علی الوجوب، فقلنا بالسنیۃ مؤکدۃ جمعا بینھما وأما الأربع قبلھا فلما تقدم فی سُنّۃ الظھر من مواظبتہ علیہ الصلاۃ والسلام علی الأربع بعد الزوال وھو یشمل الجمعۃ أیضًا ولَا یفصل بینھا وبین الظھر (وعند أبی یوسف) السُّنّۃ بعد الجمعۃ (ست) رکعات وھو مروی عن علی رضی اللہ عنہ والأفضل أن یصلی أربعًا ثم رکعتین للخروج عن الخلاف۔ (حلبی کبیر ص:۳۸۸، ۳۸۹، فصل فی النوافل، طبع سھیل اکیڈمی لَاھور)۔ وروی عن علي بن أبی طالب أنہ أمر ان یصلی بعد الجمعۃ صلی رکعتین ثم أربعًا۔ (ترمذی ج:۱ ص:۶۹ باب فی الصلاۃ قبل الجمعۃ وبعدھا)۔

