بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

جمعہ‌کی‌پہلی‌اَذان‌اور‌بیس‌تراویح‌کب‌شروع‌ہوئیں؟

سوال:۔

اللہ پاک مجھے معاف فرمائیں، معلومات اور اِطمینان کے لئے معلوم کر رہا ہوں۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ کسی بھی صحابی رسول پر تنقید کرنا سخت منع اور ناقابلِ معافی گناہ ہے، لیکن اِیمان کو مضبوط بنانے کے لئے معلومات چاہتا ہوں، وہ یہ کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دِین کو مکمل کرکے تشریف لے گئے، اب دِین میں کسی قسم کی ترمیم یا تخفیف کی کسی کو اِجازت نہیں، اور نہ ہی کوئی گنجائش رہی، تو یہ حضرت عمرؓ نے جمعہ میں دُوسری اَذان کیسے ایجاد کرلی؟ اسی طرح نمازِ تراویح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ پڑھی تھیں، تو یہ حضرت عمرؓ نے بیس رکعت کیسے مقرّر کردیں؟

جواب:۔

جمعہ کی پہلی اَذان کا اِضافہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا تھا،(۱) اور بیس تراویح پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس تراویح بھی منقول ہے، مگر اس کی سند کمزور ہے۔(۲)

حضرت عمرؓ نے صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں تراویح کی جماعت شروع کرائی، اور بیس رکعت پر لوگوں کو جمع کیا، تو یقینا انہوں نے سنتِ نبوی کو اَپنایا ہوگا، چنانچہ تین خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں صحابہؓ کا اس پر اِتفاق رہا، اور بعد میں اَئمہ اَربعہؒ نے بیس رکعات کو اِختیار کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہی منشائے نبوی تھا۔ حضرت عثمانؓ کا اَذانِ اوّل کو شروع کرنا ان کے اِجتہاد پر مبنی تھا، انہوں نے یہ سمجھا کہ اَذان کی مشروعیت اِطلاع کے لئے ہے، اور خطبے کی جو اَذان مسجد کے دروازے پر ہوتی ہے، آبادی کے زیادہ دُور ہوجانے کی وجہ سے وہ اِطلاع کے لئے کافی نہیں، اس سے انہوں نے اس اَذان سے پہلے ایک اور اَذان زوراء پر کہلانی شروع کی، اور صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے ان کے اس فعل پر نکیر نہیں کی، بلکہ سب نے اس سے اِتفاق کیا، اور حضراتِ خلفائے راشدینؓ کے فیصلوں کو شریعت پر قانونی حیثیت حاصل ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے: ’’لازم پکڑو میری سنت کو اور خلفائے راشدین کی سنت کو‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۰)۔(۳) اور دِین کی تکمیل اُصول وکلیات کے اِعتبار سے ہے، ان اُصول وکلیات کی روشنی میں حضرات خلفائے راشدینؓ نے جو فیصلے کئے یا بعد کے مجتہدین نے فیصلے کئے، وہ بھی تکمیلِ دِین میں داخل ہیں۔

  1. (۱) وروی أنس رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی الجمعۃ إذا مالت الشمس، وکان الأذان والْإقامۃ کما ذکرہ أبو جعفر فی عھد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وأبی بکر وعمر رضی اللہ عنھما، فلما کان خلافۃ عثمان رضی اللہ عنہ وکثر الناس، أمر عثمان یوم الجمعۃ بالأذان الثالث، کذالک رواہ الزھری عن السائب بن یزید رضی اللہ عنہ۔ (شرح مختصر الطحاوی لأبی بکر الجصاص ج:۲ ص:۱۱۵، باب صلاۃ الجمعۃ، طبع دار البشائر الْإسلامیۃ)۔
  2. (۲) عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ والوتر۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والأوسط، وفیہ أبو شیبۃ إبراھیم وھو ضعیف۔ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۳۰۴، باب قیام رمضان)۔
  3. (۳) عن العرباض بن ساریۃ رضی اللہ عنہ قال: صلّی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین تمسکوا بھا وعضوا علیھا بالنواجذ ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۰، الفصل الثانی، باب الْإعتصام بالکتاب والسُّنّۃ)۔