بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

جمعہ‌کی‌تیسری‌اَذان‌صحیح‌نہیں

سوال:۔

جناب ہمارے علاقے میں ایک مسجد ہے عموماً جمعہ کی نماز میں دو اَذانیں ہوتی ہیں، لیکن اس مسجد میں تین اَذانیں ہوتی ہیں، پہلی اَذان تو اپنے وقت پر ہوتی ہے، جبکہ دُوسری اَذان مولانا صاحب وعظ کرلیتے ہیں اس کے بعد ہوتی ہے، جبکہ تیسری اَذان سنتیں ادا کرنے کے بعد ہوتی ہے، جبکہ دُوسری مساجد میں دو اَذانیں ہوتی ہیں، ایک اپنے وقت پر ہوتی ہے، جبکہ دُوسری سنتیں ادا کرنے کے بعد ہوتی ہے، جناب میں آپ سے یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ یہ طریقہ کس حد تک دُرست ہے اور اسلام میں اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب:۔

جمعہ کی دو اَذانیں تو ہوتی ہیں،(۱) تیسری اَذان نہ کہیں پڑھی نہ سنی، خدا جانے ان صاحب نے کہاں سے نکالی ہے؟ بہرحال تیسری اَذان بدعت ہے۔(۲)

  1. (۱) اعلم أن أذان الجمعۃ فی عھدہ صلی اللہ علیہ وسلم کان واحدًا خارج المسجد عند الشروع فی الخطبۃ وکذالک إستمر العمل بہ فی عھد الشیخین أبی بکر وعمر رضی اللہ عنھما، ثم زاد عثمان أذانًا خارج المسجد علی الزوراء حین کثر المسلمون وذالک قبل أوان الخطبۃ۔ (معارف السُّنن ج:۴ ص:۳۹۵)۔
  2. (۲) بأنھا (البدعۃ) ما أحدث علٰی خلاف الحق المتلقی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبھۃ وإستحسان وجعل دینًا قویمًا وصراطًا مستقیمًا۔ (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب الْإمامۃ، مطلب البدعۃ خمسۃ أقسام ج:۱ ص:۵۶۰، طبع سعید)۔