بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

جمعہ‌کی‌پہلی‌اَذان‌کے‌بعد‌دُنیوی‌کاموں‌میں‌مشغولی‌حرام‌ہے

سوال:۔

علماء کا متفقہ فیصلہ جمعہ کی اَذان کی حرمت کا ہے (دُوسری اَذان کا) جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمعہ کی ایک ہی اَذان ہوا کرتی تھی، تو اگر دُوسری اَذان سے حرمت شروع ہوتی ہے تو نماز کی تیاری کے لئے وقت نہیں ملتا، اور اگر پہلی اَذان سے حرمت شروع ہوتی ہے تو آخر کیوں؟

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اَذان صرف ایک تھی، یعنی اَذانِ خطبہ، دُوسری اَذان جو جمعہ کا وقت ہونے پر دی جاتی ہے، اس کا اضافہ سیّدنا عثمان بن عفان خلیفۂ راشد رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا،(۱) قرآنِ کریم میں جمعہ کی اَذان پر کاروبار چھوڑ دینے اور جمعہ کے لئے جانے کا حکم فرمایا، صحیح تر قول کے مطابق یہ حکم پہلی اَذان سے متعلق ہے، لہٰذا پہلی اَذان پر جمعہ کے لئے سعی واجب ہے، اور جمعہ کی تیاری کے سوا کسی اور کام میں مشغول ہونا ناجائز اور حرام ہے۔(۲)

  1. (۱) اعلم أن أذان الجمعۃ فی عھدہ صلی اللہ علیہ وسلم کان واحد خارج المسجد عند الشروع فی الخطبۃ وکذٰلک استمر العمل بہ فی عھد الشیخین أبی بکر وعمر رضی اللہ عنھما ثم زاد عثمان أذانًا خارج المسجد علی الزوراء حین کثر المسلمون وذٰلک قبل أوان الخطبۃ۔ (معارف السنن ج:۴ ص:۳۹۵، طبع المکتبۃ البنوریۃ کراچی)۔ نیز دیکھئے: شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۱۴، باب صلاۃ الجمعۃ، طبع دار السراج)۔
  2. (۲) ویجب السعی وترک البیع بالأذان الأوّل۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۹، الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعۃ)۔