بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

جس‌مسجد‌میں‌پنج‌گانہ‌نماز‌نہ‌ہوتی‌ہو‌اس‌میں‌جمعہ‌ادا‌کرنا

سوال:۔

ہمارے علاقے کشمیر میں دو جامع مسجد موجود ہیں، جن میں اِمام مقرّر بھی ہیں، لاؤڈ اسپیکر وغیرہ سب کچھ موجود ہے، لیکن ان مسجدوں میں نہ تو پانچ وقت کی اَذان ہوتی ہے اور نہ ہی جماعت، صرف جمعہ کی نماز ہوتی ہے، لوگ اصرار کرتے ہیں، لیکن اِمام صاحب پانچ وقت کی نماز نہیں پڑھاتے، کیا ایسی مسجد میں جمعہ کی نماز ہوجاتی ہے؟ اور کیا ایسے اِمام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے جو کہ پانچ وقتہ نمازیں مسجد میں نہ شروع کرائے؟ اور کیا مقتدیوں کا یہ کہنا دُرست نہیں کہ پانچ وقتہ نماز شروع کرائی جائے؟

جواب:۔

جمعہ کی نماز تو صحیح ہے، لیکن اگر اِمام پنج گانہ نمازیں نہ پڑھائے تو اہلِ محلہ کا فرض ہے کہ ایسے اِمام کو برطرف کردیں، اور کوئی ایسا اِمام تجویز کریں جو پانچ وقت کی نماز پڑھایا کرے،(۱) مسجد میں پانچ وقت کی اَذان و جماعت مسجد کا حق ہے، اور اس حق کو ادا نہ کرنے کی وجہ سے تمام اہلِ محلہ گناہگار ہیں۔(۲)

  1. (۱) رجل أم قوم وھم لہ کارھون إن کانت الکراھۃ لفساد فیہ أو لأنھم أحق بالْإمامۃ یکرہ لہ ذٰلک، وإن کان ھو أحق بالْإمامۃ لَا یکرہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۸۶،۸۷، الباب الخامس فی الْإمامۃ)۔
  2. (۲) لو لم یکن لمسجد منزلہ مؤذّن فإنہ یذھب إلیہ ویؤذن فیہ ویصلی ولو کان وحدہ لأن لہ حقًّا علیہ فیؤدیہ۔ (شامی ج:۱ ص:۶۵۹، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب فی أفضل المساجد)۔