جمعہکینماز
فیکٹریمیںجمعہکینماز
سوال:۔
حب میں واقع ایک فیکٹری میں جمعۃ البارک کو ورکنگ ڈے قرار دینے کے بعد جب مزدوروں نے نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد جانا چاہا تو اِنتظامیہ نے کارکنوں کو مسجد جانے سے روک دیا (یاد رہے کہ فیکٹری کے اندر مسجد نہیں ہے، اور نہ ہی باقاعدگی سے جماعت ہوتی ہے) اور فیکٹری کے اندر جبری طور پر نمازِ جمعہ ادا کرائی گئی، جس پر لوگوں نے اِحتجاج بھی کیا اور اس کی شرعی حیثیت کو چیلنج کیا، مگر ان کی شنوائی نہیں ہوئی، حالانکہ قریب میں مساجد بھی ہیں۔ مندرجہ بالا صورتِ حال کی روشنی میں آپ سے گزارش ہے کہ کیا لوگوں کی نمازِ جمعہ ادا ہوگئی؟ اگر نہیں ہوئی تو اس کا وبال کس پر ہے؟ اور آئندہ کے لئے اس صورتِ حال کا سدباب کیسے ہوسکتا ہے؟
جواب:۔
جہاں جمعہ کی نماز ہوسکتی ہے وہاں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لئے بہتر ہے کہ مسجد ہو، اور وہاں پانچ وقتہ نماز ہوتی ہو۔(۱) لیکن اگر کہیں ایسی جگہ جہاں مسجد ہو اور نہ جماعت ہوتی ہو، مگر شرائطِ جمعہ پائی جاتی ہوں، وہاں جمعہ پڑھنا جائز ہے،(۲) مگر کراہت کے ساتھ۔(۳)
- (۱) قال البرھان الحلبی کل ما شرع بجماعۃ فالمسجد فیہ أفضل لزیادۃ فضیلۃ المسجد وتکثیر الجماعۃ وإظھار شعار الْإسلام۔ (مراقی الفلاح مع حاشیۃ طحطاوی ص:۲۲۵)۔
- (۲) وفی الفتاویٰ الغیاثیۃ لو صلی الجمعۃ فی قریۃ بغیر مسجد جامع والقریۃ کبیرۃ لھا قریٰ وفیھا وال وحاکم جازت الجمعۃ بنوا المسجد أو لم یبنوا۔ (حلبی کبیر ص:۵۵۱، فصل فی الجمعۃ)۔
- (۳) تفصیل کے لئے دیکھئے: الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۲ ص:۲۷۸، المطلب الخامس، شروط صحۃ الجمعۃ۔

