جمعہکینماز
فوجیکیمپمیںجمعہاداکرنا
سوال:۔
جب عساکر اسلامی فوج ٹریننگ کے لئے شہر سے دُور کیمپ میں قیام کرتی ہیں اور انہیں وہاں طبّی سہولتیں مکمل میسر ہیں، تعداد چار، پانچ صد ہے، اس صورت میں کیا جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو ثواب سے محروم ہوں گے یا نہیں؟ اگر اِمام جمعہ نہ پڑھائے تو کیا وہ مخالفتِ حکمِ امیر کا مرتکب تو نہیں؟ اور جو لوگ اِمام کے ساتھ اس صورت میں مخالفت کریں، ان کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔
جمعہ شہری آبادی میں ہوتا ہے، شہر کی آبادی سے دُور جنگل میں جمعہ نہیں ہوتا، جس کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدانِ عرفات میں ظہر کی نماز پڑھی تھی، حالانکہ جمعہ کا دن تھا،(۱) چونکہ جنگل میں جمعہ صحیح نہیں، اس لئے آپ لوگوں نے جتنے جمعے جنگل میں پڑھے ہیں، اتنے دن کی ظہر کی نمازیں آپ کے ذمہ باقی ہیں، ان کو قضا کیجئے۔(۲) جس جگہ جمعہ شرعاً جائز نہیں، اگر امیر وہاں جمعہ پڑھنے کا اِمام صاحب کو حکم دیتا ہے تو اس کا یہ حکم غلط ہے، اور وہ اس غلط حکم دینے کی وجہ سے خود گناہگار ہے، اِمام صاحب کو اس کی تعمیل جائز نہیں، اگر خلافِ شریعت حکم کی تعمیل کرے گا تو ایسا اِمام اِمامت کا اہل نہیں۔ حدیث شریف میں ہے:
’’السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ۔‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ ص:۳۱۹)
ترجمہ:۔’’مسلمان پر امیر کی سمع و طاعت واجب ہے، خواہ وہ حکم اس کو پسند ہو یا ناپسند، بشرطیکہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے، جب گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ اس حکم کو سنا جائے، نہ مانا جائے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے:
’’لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي مَعْرُوفٍ۔‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ ص:۳۱۹)
ترجمہ:۔’’اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت صرف اچھے کام میں ہے۔‘‘
اور یہ حدیث تو زبان زد خاص و عام ہے:
’’لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ۔‘‘ (شرح السنۃ، مشکوٰۃ ص:۳۲۱)
ترجمہ:۔’’خالق کی نافرمانی کے کام میں مخلوق کی اطاعت نہیں۔‘‘
- (۱) فی حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فی قصۃ حجۃ الوداع ۔۔۔ ثم أذّن بلال ثم أقام فصلی الظھر ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۲۵، باب قصۃ حجۃ الوداع، الفصل الأوّل، طبع قدیمی)۔
- (۲) وفی الجواھر لو صلّوا فی القریٰ لزمھم أداء الظھر۔ (شامی ج:۲ ص:۱۳۸، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ)۔

