جمعہکینماز
جیلخانےمیںنمازِجمعہاداکرنا
سوال:۔
جیل خانے کے اندر نمازِ جمعہ ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب:۔
ہمارے اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک جمعہ کے صحیح ہونے کے لئے جہاں اور شرطیں ہیں، وہاں ’’اِذنِ عام‘‘ بھی شرط ہے،(۱) یعنی جمعہ ایسی جگہ ہوسکتا ہے جہاں ہر خاص و عام کو آنے کی اجازت ہو، اور ہر مسلمان اس میں شرکت کرسکے۔ جیل میں اگر یہ شرط پائی جائے تو جمعہ صحیح ہوگا ورنہ نہیں۔ یہ مسئلہ تو عام کتابوں میں لکھا ہے، لیکن حضرت مولانا مفتی محمودؒ فرماتے تھے کہ جیل میں جمعہ جائز ہے، اور وہ اس کے لئے فقہ کی کتاب کا حوالہ بھی دیتے تھے، جو مجھے مستحضر نہیں، خود مفتی صاحب مرحوم کا عمل بھی جیل میں جمعہ پڑھنے کا تھا۔(۲)
والسابع (الْإذن العام) ۔۔۔ فلا یضر غلق باب القلعۃ، لعدو، أو لعادۃ قدیمۃ لأن الْإذن العام مقرر لأھلہ وغلقہ لمنع العدو ولَا المصلی، وفی الشامیۃ تحت قولہ (أو قصرہ) قلت وینبغی أن یکون محل النزاع ما إذا کان لَا تقام إلّا فی محل واحد أما لو تعددت فلا لأنہ لَا یتحقق التفویت کما أفادہ التعلیل فتأمل۔ (ردالمحتار مع الدر المختار ج:۲ ص:۱۵۱، ۱۵۲)۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: فتاویٰ مفتی محمود ج:۲ ص:۳۷۳ جیل میں جمعہ قائم کرنا ج:۲ ص:۳۸۵، ج:۲ ص:۴۲۷، طبع الجمعیۃ پبلیکیشنز لَاھور۔
- (۱) الشرط السادس الْإذن العام ۔۔۔ والْإذن العام والأداء علٰی سبیل الشھرۃ من جملۃ تلک الخصوصیات فلا تجوز بدونہ ۔۔۔إلخ۔ (شرح حلبی کبیر ص:۵۵۸، فصل فی صلاۃ الجمعۃ)۔
- (۲) حضرت مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جواز پر جس عبارت سے اِستدلال فرمایا ہے، وہ یہ ہے:

