بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

تین‌ہزار‌افراد‌پر‌مشتمل‌آبادی‌قریۂ‌کبیرہ‌ہے،‌اس‌میں‌نمازِ‌جمعہ‌جائز‌ہے

سوال:۔

ہمارا گاؤں شہر سے تقریباً ۹-۱۰ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، گاؤں میں ایک بہت بڑی جامع مسجد ہے، مسجد کے ساتھ چھوٹا سا بازار اور کچی سڑک بھی ہے، گاؤں کی آبادی تقریباً ڈھائی تین ہزار سے زائد ہوگی، ہمارے گاؤں میں عرصہ پندرہ بیس سال سے جمعہ وعیدین کی نماز ہوتی ہیں، جبکہ جامع مسجد میں پابندی کے ساتھ پانچ وقت باجماعت نماز نہیں کی جاتی ہے، اکثر وبیشتر صرف ظہر وعصر کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ آپ برائے کرم پوری تحقیق کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں کہ کیا ہمارے یہاں جمعہ وعیدین کی نماز صحیح ہوتی ہے؟ اگر صحیح ہے تو ٹھیک ہے، اگر صحیح نہیں تو کیا ان کو ترک کیا جائے جبکہ ہر جمعہ میں ۲۵، ۳۰، ۳۵ آدمی شریک ہوجاتے ہیں، اگر چھوڑ دیا جائے تو بھی کافی فتنے کا خوف ہے، براہِ کرم اس کا تسلی بخش اور تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں۔

جواب:۔

آپ کے علاقے میں ایسا گاؤں جس کی آبادی دو ڈھائی ہزار ہو اور روزمرّہ کی ضروریات بھی وہاں ملتی ہوں، وہ ’’قریۂ کبیرہ‘‘ کے حکم میں ہے، اس میں جمعہ جائز ہے۔(۱)

  1. (۱) وتقع فرضًا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا أسواق۔ (شامی ج:۲ ص:۱۳۸، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ)۔ أیضًا: (وھو) أی المصر (کل موضع لہ أمیر وقاض ینفذ الأحکام ویقیم الحدود) ۔۔۔ وعنہ ھو کل موضع یکون فیہ کل محترف، ویوجد فیہ جمیع ما یحتاج الناس إلیہ فی معایشھم، وفیہ فقیہ مفت وقاض یقیم الحدود، وعنہ: أنہ یبلغ سکانہ عشرۃ آلَاف ۔۔۔إلخ۔ (تبیین الحقائق ج:۱ ص۵۲۳، باب صلاۃ الجمعۃ، طبع دار الکتب العلمیۃ)۔