بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

بچوں‌اور‌عورتوں‌سمیت‌تین‌سو‌اَفراد‌پر‌مشتمل‌آبادی‌میں‌نمازِ‌جمعہ

سوال:۔

ہمارا گاؤں ہری پور سے ۲۶کلومیٹر دُور ہے، جس کی آبادی عورتوں اور بچوں کو ملاکر تقریباً ۳۰۰ ہے، اور یہاں تین مسجدیں ہیں، تینوں مسجدوں کے نمازی ملائے جائیں تو تقریباً ۳۰۰ ہوں گے، اب ہماری مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے لگے ہیں، پچھلے پانچ مہینے سے اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نماز نہیں ہوتی، جبکہ ہمارے گاؤں میں بجلی کی سہولت، پانی کی اور ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود ہے، اور یہاں چار پرچون کی دُکانیں بھی ہیں، جس میں سبزی بھی موجود ہوتی ہے، لیکن یہاں ہوٹل نہیں ہے، نہ ہی کوئی کپڑے کی دُکان ہے، باہر سے آنے والے مسافر کو مسجد میں ٹھہراتے ہیں، اور کوئی جگہ نہیں۔ جب سے جمعہ کی نماز ہونے لگی ہے، اِردگرد کے لوگ بھی نماز پڑھنے آتے ہیں، مسجد بھرجاتی ہے، یہاں کوئی اسپتال بھی نہیں ہے۔

جواب:۔

اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک جمعہ یا تو شہر میں ہوتا ہے یا قصبے میں، چھوٹی بستی میں جمعہ نہیں ہوتا۔ تین سو کی آبادی کا گاؤں چھوٹی بستی ہے، یہاں جمعہ صحیح نہیں۔(۱)

  1. (۱) وتقع فرضًا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا أسواق۔ (شامی ج:۲ ص:۱۳۸، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ)۔ أیضًا: شرط أداھا المصر أی شرط صحتھا أن تؤدی فی مصر حتّٰی لَا تصح فی قریۃ ولَا مفازۃ ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۵۱)۔ أیضًا: قال رحمہ اللہ تعالٰی: (وھو) أی المصر (کل موضع لہ أمیر وقاض ینفذ الأحکام ویقیم الحدود) وھٰذا روایۃ عن أبی یوسف، وھو إختیار الکرخی، وعنہ أنھم لو إجتمعوا فی أکبر مساجدھم لَا یسعھم وھو إختیار البلخی، وعنہ: وھو کل موضع یکون فیہ کل محترف ویوجد فیہ جمیع ما یحتاج إلیہ الناس فی معایشھم وفیہ فقیہ وقاض یقیم الحدود، وعنہ أنہ یبلغ سکانہ عشرۃ آلَاف، وقیل یوجد فیہ عشرۃ آلَاف مقاتل ۔۔۔إلخ۔ (تبیین الحقائق ج:۱ ص:۵۲۳، باب صلاۃ الجمعۃ، طبع دار الکتب العلمیۃ)۔