جمعہکینماز
آٹھسواَفرادپرمشتملگاؤںمیںنمازِجمعہ
سوال:۔
سائل کے گاؤں میں آبادی تقریباً آٹھ سو افراد بمعہ (عورتیں اور بچے) پر مشتمل ہے، بروزِ جمعہ جامع مسجد میں افراد ۸ یا ۹ صفوں میں مجتمع ہوتے ہیں، اور ہر صف میں تقریباً ۳۰ آدمی ہوتے ہیں، سائل کے گاؤں میں دُوسری سہولیات جیسے ہائی اسکول، ڈاک خانہ اور شفاخانہ موجود نہیں، بس صرف دو تین دُکانیں ہیں، اس کے علاوہ دُوسری اہم ضروریات جیسے موچی، ترکھان اور حجام کی موجودگی سے بھی ہمارا گاؤں محروم ہے۔ گاؤں میں صرف لڑکیوں کے لئے ایک پرائمری اسکول موجود ہے، لہٰذا آپ صاحبان کی خدمت میں عرض کی جاتی ہے کہ ہمارے اس چھوٹے سے گاؤں نمازِ جمعہ اور نمازِ عیدین ادا ہوسکتی ہیں کہ نہیں؟ واضح رہے کہ اس گاؤں میں عرصہ دراز سے جمعہ اور عیدین کی نماز ہوتی ہے۔
جواب:۔
یہ گاؤں چھوٹا ہے، اور چھوٹے گاؤں میں حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک جمعہ جائز نہیں، جو لوگ یہاں جمعہ پڑھتے ہیں، وہ اپنی ظہر کی نماز برباد کرتے ہیں،ا س لئے یہاں جمعہ کی نماز نہ پڑھی جائے، اگر کسی کو جمعہ پڑھنا ہو تو شہر میں جاکر جمعہ پڑھے۔(۱)
- (۱) شرط أداھا المصر أی شرط صحتھا أن تؤدی فی مصر حتّٰی لَا تصح فی قریۃ ولَا مفازۃ ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۵۱)۔ أیضًا: قال رحمہ اللہ تعالٰی: (وھو) أی المصر (کل موضع لہ أمیر وقاض ینفذ الأحکام ویقیم الحدود) وھٰذا روایۃ عن أبی یوسف، وھو إختیار الکرخی، وعنہ أنھم لو إجتمعوا فی أکبر مساجدھم لَا یسعھم وھو إختیار البلخی، وعنہ: وھو کل موضع یکون فیہ کل محترف ویوجد فیہ جمیع ما یحتاج إلیہ الناس فی معایشھم وفیہ فقیہ وقاض یقیم الحدود، وعنہ أنہ یبلغ سکانہ عشرۃ آلَاف، وقیل یوجد فیہ عشرۃ آلَاف مقاتل ۔۔۔إلخ۔ (تبیین الحقائق ج:۱ ص:۵۲۳، باب صلاۃ الجمعۃ، طبع دار الکتب العلمیۃ)۔

