بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

دو‌سو‌گھروں‌پر‌مشتمل‌آبادی‌میں‌جمعہ‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

ایسا گاؤں جس کا شہر سے پیدل فاصلہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا اور گاڑی پر ایک گھنٹے کا ہے، گاؤں کا ڈاک خانہ، تھانہ اور یونین کونسل کا دفتر (مرکزی مقام) بھی شہر میں ہے، کیا ایسا گاؤں شہر کے مضافات کی تعریف میں آتا ہے؟ جبکہ گاؤں کی اکثر ضروریات شہر سے ہی پوری ہوتی ہیں۔ گاؤں میں گلیاں ہیں نہ بازار، صرف چھوٹی چھوٹی تین دُکانیں ہیں، گاؤں کی مجموعی آبادی تقریباً دو سو گھروں پر مشتمل ہے جو کہ گاؤں میں چار مختلف بستیوں میں بٹی ہوئی ہے، اس گاؤں میں جمعہ پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:۔

فنائے مصر شہر کے ماحول کو کہتے ہیں، جو شہر کی ضروریات کے لے خالی جگہ ہوتی ہے۔(۱) یہ گاؤں، جو ایک الگ الگ چار بستیوں میں بٹا ہوا ہے، نہ یہ قصبہ ہے، نہ قریۂ کبیرہ، نہ فنائے مصر میں واقع ہے، لہٰذا یہاں جمعہ جائز نہیں۔(۲) لوگوں کو لازم ہے کہ جمعہ کے شوق میں ظہر کی نماز غارت نہ کریں۔

  1. (۱) فناء المصر: ما اتصل بہ معدًّا لمصالحہ۔ (قواعد الفقہ ص:۴۱۷، طبع صدف پبلشرز)۔
  2. (۲) لَا یصح أداء الجمعۃ إلّا فی المصر وتوابعہ فلا تجب علٰی أھل القری التی لیست من توابع المصر ولَا یصح أداء الجمعۃ فیھا ۔۔۔ روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: لَا جمعۃ ولَا تشریق إلّا بمصر جامع۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۵۹، وأما بیان شرائط الجمعۃ، طبع سعید)۔