بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

کیا‌جوازِ‌جمعہ‌کے‌لئے‌آبادی‌کی‌تعداد‌میں‌مسلم،‌غیرمسلم،‌عورتیں‌اور‌بچے‌سب‌شامل‌ہیں؟

سوال:۔

جوازِ جمعہ کے لئے آبادی کی تعداد کیا ہے؟ کیا آبادی کی تعریف میں عورتیں، بچے اور غیرمسلم بھی شامل ہیں یا نہیں؟

کیا سول اور فوج کو ملاکر مطلوبہ آبادی پوری کی جاسکتی ہے؟اگر سول اور فوج کو ملاکر مطلوبہ آبادی پوری کی جائے تو اس صورت میں کیا فوج اپنے لئے الگ جمعہ کا اِہتمام کرے گی یا وہ سول میں جاکر جمعہ ادا کریں گے؟

کچھ فوجی کیمپ سول آبادی سے دُور اور کچھ قریب ہیں، اس لحاظ سے متصل اور مفصل شرعی حیثیت کیا ہے؟

کچھ فوجی مقام ایسے ہیں جہاں فوجی ۱۰۰ سے لے کر ۳۰۰ تک کی تعداد میں بغیر بیوی بچوں کے سال بھر رہتے ہیں، کیا وہاں جمعہ جائز ہے؟ جبکہ وہاں دُشمن کا فوری خطرہ بھی نہیں ہے؟

جواب:۔

حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک جمعہ صرف شہر یا قصبات میں جائز ہے، چھوٹی بستیوں میں جائز نہیں ہے۔ عموماً جس بستی کی آبادی دو اَڑھائی ہزار پر مشتمل ہو، اور وہاں روزمرہ کی ضروریات دستیاب ہوں، اور گردوپیش کے لوگ ضروریاتِ زندگی کی خرید وفروخت کے لئے وہاں آتے ہوں، ایسی آبادی میں جمعہ جائز ہے۔(۱)

۲:۔ فوج کی اگر وہاں مستقل چھاؤنی رہتی ہو تو اس کو بھی اس آبادی میں شمار کیا جائے گا، اگر فوج کا وہاں مستقل قیام نہیں تو ان کو شمار نہیں کریں گے۔ مستقل باشندے خواہ مسلم ہوں یا غیرمسلم، مرد ہوں یا عورتیں، بڑے ہوں یا بچے ان سب کو شمار کیا جائے گا۔

۳:۔ جس بستی میں جمعہ جائز ہو، وہاں فوج اپنے جمعہ کا الگ انتظام کرسکتی ہے۔(۲)

۴:۔ جس بستی کو ہم ’’بڑی بستی‘‘ یا قصبہ شمار کریں گے، اس کے لئے ضروری ہوگا کہ اس کی آبادی (مکانات) متصل ہوں۔ پھر اس بستی سے ملحقہ آبادی میں فوج کا جمعہ پڑھنا بھی جائز ہے، اور اگر اصل آبادی کے لحاظ سے وہ جگہ چھوٹی بستی شمار ہوتی ہے، تو کچھ فاصلے پر اگر فوجی کیمپ ہو تو اس کو اس بستی میں شمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ یہ مستقل آبادی شمار ہوگی۔

۵:۔ صرف چند فوجیوں کی رہائش گاہ میں جمعہ صحیح نہیں، خواہ ان کا قیام سال بھر رہا کرتا ہو، دیکھنا یہ ہے کہ جس جگہ ان کا قیام ہے، وہ جگہ ایسی ہے کہ وہاں جمعہ جائز ہو؟ اس نکتے کی وضاحت اُوپر کرچکا ہوں۔

  1. (۱) وتقع فرضًا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا أسواق۔ (شامی ج:۲ ص:۱۳۸، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ)۔ أیضًا: عن أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالٰی: أنہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک وأسواق، ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علٰی إنصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ أو علم غیرہ، یرجع الناس إلیہ فیما یقع من الحوادث، وھٰذا ھو الأصح۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۱۳۷، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ)۔
  2. (۲) ایضاً حوالہ بالا۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع للکاسانی ج:۱ ص:۲۵۸ تا ۲۶۹، وأما بیان شرائط الجمعۃ، طبع ایچ ایم سعید۔