جمعہکینماز
اٹھارہہزارآبادیوالےگاؤںمیںجمعہ
سوال:۔
ہمارے گاؤں کی آبادی اٹھارہ ہزار ہے، اور بنیادی سہولتیں میسر ہیں، گاؤں ضلعی شہر پشین سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے اور گاؤں سے تین میل کے فاصلے پر پولیس لیویز چوکی ہے، مگر ہمارے گاؤں میں تھانہ نہ پولیس چوکی ہے، مسئلہ کچھ یوں ہے کہ عرصہ دو سال سے ایک دِینی مدرسے میں باقاعدہ نمازِ جمعہ اور نمازِ عیدین پڑھی جاتی ہیں، جس میں صرف گنتی کے چند لوگ شرکت کرتے ہیں۔ اور دُوسری طرف گاؤں کے علماء اور اکثریتی فریق کا کہنا ہے کہ یہاں پر نمازِ جمعہ اور نمازِ عیدین پڑھنا ناجائز ہے، کیونکہ یہ ایک دیہاتی گاؤں ہے اور یہاں پر تھانہ نہیں ہے۔ جبکہ دُوسرے فریق کا کہنا ہے کہ یہاں نمازِ جمعہ اور عیدین پڑھنا جائز ہے کیونکہ یہاں کی آبادی بہت ہے۔ اس نازک مسئلے پر یہاں کے باشندوں کو سخت بے چینی اور ذہنی کوفت کا سامنا ہے۔
جواب:۔
اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک جمعہ کے لئے شہر یا قریۂ کبیرہ (قصبہ) کا ہونا شرط ہے، جب گاؤں کی آبادی اٹھارہ ہزار کی ہو، اس کو قریۂ کبیرہ شمار کیا جائے گا، اس لئے اس بستی میں جمعہ اور عیدین کی نماز صحیح ہے۔(۱)
- (۱) وفی التحفۃ عن أبی حنیفۃ رحمہ اللہ أنہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک وأسواق ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علٰی إنصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ أو علم غیرہ یرجع الناس إلیہ فیما یقع من الحوادث وھٰذا ھو الأصح۔ (شامی ج:۲ ص:۱۳۷)، وتقع فرضًا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا أسواق۔ (شامی ج:۱ ص:۱۳۷، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ)۔ نیز حاشیہ : أما المصر الجامع۔۔۔الخ ملاحظہ کیجئے۔

