جمعہکینماز
ڈیڑھسوگھروںوالےگاؤںمیںنمازِجمعہ
سوال:۔
ایک گاؤں جس کی آبادی تقریباً ڈیڑھ سو گھروں پر مشتمل ہے، چار دُکانیں ہیں جس میں ضرورت کی چیزیں دستیاب ہیں، مثلاً: گھی، اناج، چائے، چینی، کپڑا وغیرہ، یہ گاؤں گلیوں اور راستوں پر بھی مشتمل ہے، نیز اس گاؤں میں سولہ سال سے جمعہ کی نماز ہوتی رہی، کیا از رُوئے شرع اس میں جمعہ کی نماز جائز ہے کہ نہیں؟
جواب:۔
یہ گاؤں، شہر یا قصبہ کے حکم میں نہیں، اس لئے حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کے مسلک پر اس میں جمعہ جائز نہیں۔(۱)
- (۱) أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعۃ وشرط صحۃ أدائھا عند أصحابنا حتّٰی لَا تجب الجمعۃ إلّا علٰی أھل المصر ومن کان ساکنًا فی توابعہ وکذا لَا یصح أداء الجمعۃ إلّا فی المصر وتوابعہ فلا تجب علٰی أھل القریٰ التی لیست من توابع المصر ولَا یصح أداء الجمعۃ فیھا ۔۔۔ ولنا ما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: لَا جمعۃ ولَا تشریق إلّا فی مصر جامع۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۵۹، شرائط الجمعۃ)۔

