بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

چھوٹے‌گاؤں‌میں‌جمعہ‌پڑھنا‌صحیح‌نہیں‌ہے

سوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اندریں مسئلہ کہ ایک چھوٹا گاؤں ہے جس میں تقریباً ۸۰ گھر ہیں، دُکانیں، بازار نہیں، اور نہ ہی تین یا پانچ سات مسجدیں، صرف ایک مسجد ہے اور نہ ہی کوئی چھاؤنی یا مرکزی مقام ہے، اس میں لوگ جمعہ پڑھتے ہیں، کافی سال ہوگئے ہیں، اب یہ عاجز یہاں مقیم ہوا ہے تو مجھ سے چند دوستوں نے پوچھا کہ یہ چھوٹا گاؤں ہے اور عندالاحناف چھوٹے گاؤں میں جمعہ جائز نہیں۔ تو دُوسرے صاحب بولے اور عندالشافعی تو جائز ہے۔

اور دُوسری بات یہ ہے کہ علمائے کرام فرماتے ہیں جہاں جمعہ شروع کردیا گیا ہو تو وہاں بند نہ کرنا چاہئے، تو اس عاجز نے کہا کہ بدعت نکالنے والے لوگ بھی تو یہی دلیل دیتے ہیں کہ اچھا کام ہے، اب اس کو بند نہ کرو، جب شروع ہی بغیر دلیل اور ثبوت کے ہوا تو اس کو قائم رکھنا تو جائز نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ بس جاؤ تم پڑھتے رہو، چاہے حنفیہ کے نزدیک کوئی شرطِ صحتِ جمعہ نہ ہو تو بھی یہی بڑی دلیل ہے کہ جمعہ لوگ بہت عرصے سے پڑھتے ہیں، اب اگر بند کردیا جائے تو انتشار پیدا ہوگا، آپ براہ کرم اس بارے میں مستفید فرمادیں۔

جواب:۔

اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک چھوٹی بستی میں جمعہ جائز نہیں،(۱) اور گو کہ دُوسرے ائمہ کے نزدیک جائز ہے، مگر ان کے مذہب پر عمل کرنا اس لئے ممکن نہیں کہ ان کے مذہب کے مطابق نماز کی بہت سی شرطیں ایسی ہیں جن کا ہمارے لوگوں کو علم نہیں، اور جب ان شرطوں کے بغیر گاؤں میں جمعہ پڑھا جائے تو نماز نہ اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک صحیح ہوئی، نہ اِمام شافعیؒ کے نزدیک، پس ظہر کی نماز کو غارت کرنا کسی طرح روا نہ ہوگا، اور اس کا وبال سر پر رہے گا۔ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ جہاں جمعہ شروع ہو وہاں بند نہ کیا جائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ سمجھادیا جائے، اس کے باوجود کوئی نہیں مانتا تو وہ اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے، مگر خود جمعہ پڑھنا کسی حال میں دُرست نہیں۔ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ اس سے انتشار ہوگا، یہ ایک درجے میں صحیح ہے، کہ لوگوں پر جہل غالب ہے، مگر یہ بھی اس امر کے لئے کافی عذر نہیں کہ اس بدعت کا خود ارتکاب کیا جائے۔ راقم الحروف اپنے گاؤں میں طالبِ علمی کے زمانے میں خود جمعہ پڑھاتا تھا، لیکن جب مسئلے کا علم ہوا تو جمعہ بند کردینے کا اعلان کردیا، الحمدللہ! نہ کوئی مرتد ہوا، نہ کسی نے نماز چھوڑی، البتہ ایسے بے دین لوگ جن کو نماز اور مسجد سے کوئی واسطہ نہیں، اب بھی نکتہ چینی کرتے ہیں، سو ایسے لوگوں کی نکتہ چینیوں سے گھبراکر شرعی مسائل کو اگر بدل دیا جائے تو دینِ اسلام کی شکل ہی مسخ ہوجائے گی۔

مسئلہ تو میں نے لکھ دیا ہے، اب آگے مشورہ عرض کرتا ہوں، آپ اپنی بستی کے دین دار اور صاحبِ فہم لوگوں کو جمع کرکے میرا یہ خط ان کے سامنے رکھیں، اگر وہ شرعی مسئلے پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوں تو ان میں سے جو حضرات ذی وجاہت ہیں، وہ خود اس مسئلے کا اعلان کرکے جمعہ بند کرنے کی اطلاع کریں، اور اگر اس بستی کے دین دار اور سمجھ دار لوگ بھی اس مسئلے پر عمل کرنے سے گریز کریں تو آپ اس بستی کی اِمامت چھوڑ دیں۔ اِمام کو اس لئے مقرّر کیا جاتا ہے کہ وہ شرعی مسائل کے مطابق لوگوں کی اِمامت کرے، نہ یہ کہ شریعت کے خلاف لوگوں کا تابعِ مہمل بن کر رہے۔

  1. (۱) عن حذیفۃ رضی اللہ عنہ لیس علٰی أھل القریٰ جمعۃ، إنما الجمع علٰی أھل الأمصار مثل المدائن۔ (أوجز المسالک، باب ما جاء فی الْإمام ینزل بقریۃ یوم الجمعۃ ج:۲ ص:۲۴۶ طبع إدارہ إسلامیات)۔ عن علی رضی اللہ عنہ أنہ قال: لَا جمعۃ ولَا تشریق إلّا فی مصر جامع۔ (إعلاء السُّنن ج:۸ ص:۱ أبواب الجمعۃ)۔ أیضًا: وتقع فرضًا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا أسواق ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۱۳۸، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ)۔