بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

بڑے‌گاؤں‌میں‌جمعہ‌فرض‌ہے،‌پولیس‌تھانہ‌ہو‌یا‌نہ‌ہو

سوال:۔

ہمارا ایک قریہ ہے جس کا نام کربلا ہے، جس کی آبادی تقریباً دس ہزار پر مشتمل ہے، جس میں نو مسجدیں بھی ہیں، چار مسجدیں تو اتنی بڑی ہیں کہ ایک وقت پر تقریباً ڈیڑھ سو افراد ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، اور اس قریہ میں ضروریاتِ زندگی کا سامان ہر وقت مل سکتا ہے۔ ہائی اسکول، پرائمری اسکول، ڈاک خانہ، اسپتال، ٹیلیفون، بجلی، غرض یہ سب چیزیں موجود ہیں، مدرسہ بھی ہے، جس میں تقریباً بڑے چھوٹے تقریباً ۳۰۰ طلبہ پڑھ رہے ہیں، لیکن یہاں پر جمعہ کی نماز نہیں ہوتی، ہمارے یہاں سے تقریباً آٹھ میل کی مسافت پر ضلع پشین میں جمعہ کی نماز باقاعدہ ہوتی ہے، اور علمائے دین نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ یہاں پر جمعہ پڑھنا واجب ہے، فتویٰ جن علماء نے دیا ہے، ان کے نام یہ ہیں: مفتی عبدالحق صاحب اکوڑہ خٹک، مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم کورنگی، مفتی زین العابدین فیصل آباد، مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کراچی۔ مقامی علمائے دین فتویٰ کو نہیں مانتے۔ ہمارے علماء کا کہنا یہ ہے کہ یہاں پر پولیس تھانہ نہیں ہے، اور اس طرح جمعہ آس پاس گاؤں والوں پر واجب ہوجائے گا، اور اگر آپ لوگ کوئی بھی یہاں جمعہ پڑھوگے تو آس پاس کے گاؤں والے جھگڑا کریں گے۔ اب بتائیں کہ کیا اس قریہ میں جمعہ پڑھنا ضروری ہے؟

جواب:۔

اگر آپ کے مقامی علماء، اتنے بڑے بڑے علماء کے فتویٰ کو نہیں مانتے تو مجھ طالبِ علم کی بات کب مانیں گے؟ تاہم ان سے گزارش ہے کہ اس قصبے میں جمعہ فرض ہے،(۱) اور وہ ایک اہم فرض کے تارک ہو رہے ہیں، اگر تھانہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کو جھگڑے کا شبہ ہے تو اس کا حل تو بہت آسان ہے، اس سلسلے میں گورنمنٹ سے استدعا کی جاسکتی ہے کہ یہاں ایک پولیس چوکی بٹھادی جائے، بہرحال تھانے کا وہاں موجود ہونا صحتِ جمعہ کے لئے شرطِ لازم نہیں۔

  1. (۱) وعبارۃ القھسانی تقع فرضًا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا أسواق۔ قال أبو القاسم: ھٰذا بلا خلاف إذا أذن الوالی أو القاضی ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعۃ لأن ھٰذا مجتھد فیہ فإذا اتصل بہ الحکم صار مجمعًا علیہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۱۳۸، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ)۔ وحاصلہ إدارۃ الأمر علٰی رأی أھل کل زمان فی عدھم المعمورۃ مصرًا، فما ھو مصر فی عرفھم جازت الجمعۃ فیہ، وما لیس بمصر لم یجز فیہ، إلّا أن یکون فناء المصر۔ (الکوکب الدری، أبواب الجمعۃ ج:۱ ص:۱۹۹، طبع مکتبۃ یحیویۃ سہارنپور)۔