بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

جمعہ‌شہر‌اور‌قصبے‌میں‌جائز‌ہے،‌چھوٹے‌گاؤں‌میں‌نہیں

سوال:۔

ہمارا گاؤں جو کہ ۵۰ یا ۶۰ گھروں پر مشتمل ہے، اور اس میں ایک پکی مسجد ہے، جس میں لاؤڈ اسپیکر وغیرہ بھی لگا ہوا ہے، پورے گاؤں میں ایک دُکان بھی ہے، اور ہمارے ہاں جمعہ کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ کچھ لوگ یہ جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہاں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی۔ برائے کرم قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں یہ بتائیں کہ کیا ہمارے گاؤں میں جمعہ کی نماز جائز ہے یا نہیں؟ پرسوں ہی ایک مولانا صاحب ریڈیو پاکستان لاہور سے خطوں کے جواب دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ جمعہ صرف شہر والوں پر فرض ہے، گاؤں یا دیہات والوں پر نہ تو جمعہ فرض ہے اور نہ ہی کسی بھی دیہات یا گاؤں میں جمعہ کی نماز ہوتی ہے، تاوقتیکہ وہ گاؤں شہر کی تمام سہولتوں جیسی سہولتیں حاصل کرلے۔

جواب:۔

فقہِ حنفی کے مطابق جمعہ صرف شہر اور قصبات میں جائز ہے، چھوٹے گاؤں میں جمعہ جائز نہیں۔(۱)

  1. (۱) عن حذیفۃ رضی اللہ عنہ لیس علٰی أھل القریٰ جمعۃ، إنما الجمع علٰی أھل الأمصار مثل المدائن۔ (أوجز المسالک، باب ما جاء فی الْإمام ینزل بقریۃ یوم الجمعۃ ج:۲ ص:۲۴۶ طبع إدارہ إسلامیات)۔ عن علی رضی اللہ عنہ أنہ قال: لَا جمعۃ ولَا تشریق إلّا فی مصر جامع۔ (إعلاء السُّنن ج:۸ ص:۱ أبواب الجمعۃ)۔ أیضًا: وتقع فرضًا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا أسواق ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۱۳۸، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ)۔