جمعہکینماز
نمازِجمعہکیاہمیت
سوال:۔
ہم نے سنا ہے کہ جس شخص نے جان بوجھ کر تین نمازِ جمعہ ترک کردئیے وہ کفر میں داخل ہوگیا، اور وہ نئے سرے سے کلمہ پڑھے، کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
جواب:۔
حدیث کے جو الفاظ آپ نے نقل کئے ہیں، وہ تو مجھے نہیں ملے، البتہ اس مضمون کی متعدّد احادیث مروی ہیں، ایک حدیث میں ہے:
’’مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قَلْبِهِ۔ (رَوَاهُ أَبُو دَاوٗد وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِي الْجَوْرِ الضَّمْرِيِّ وَمَالِكٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ وَأَحْمَدُ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ)۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۱۲۱)
ترجمہ:۔ ’’جس شخص نے تین جمعے محض سستی کی وجہ سے، ان کو ہلکی چیز سمجھتے ہوئے چھوڑ دئیے، اللہ تعالیٰ اس کے دِل پر مہر لگادیں گے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے:
’’لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ۔‘‘ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ ص:۱۲۱)
ترجمہ:۔’’لوگوں کو جمعوں کے چھوڑنے سے باز آجانا چاہئے، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دِلوں پر مہر کردیں گے، پھر وہ غافل لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے:
’’مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ كُتِبَ مُنَافِقًا فِي كِتَابٍ لَا يُمْحٰى وَلَا يُبَدَّلُ۔‘‘
(رواہ الشافعی، مشکوٰۃ ص:۱۲۱)
ترجمہ:۔’’جس شخص نے بغیر ضرورت اور عذر کے جمعہ چھوڑ دیا اس کو منافق لکھ دیا جاتا ہے، ایسی کتاب میں جو نہ مٹائی جاتی ہے، نہ تبدیل کی جاتی ہے۔‘‘
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے:
’’مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ جُمُعَاتٍ مُتَوَالِيَاتٍ فَقَدْ نَبَذَ الْاِسْلَامَ وَرَاءَ ظَهْرِهِ۔‘‘
(رَوَاهُ أَبُو يَعْلٰى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، مَجْمَعُ الزَّوَائِدِ ج:۲ ص:۱۹۳)
ترجمہ:۔’’جس شخص نے تین جمعے پے درپے چھوڑ دئیے، اس نے اسلام کو پسِ پشت پھینک دیا۔‘‘
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا ترک کردینا بدترین گناہِ کبیرہ ہے، جس کی وجہ سے دِل پر مہر لگ جاتی ہے، قلب ماؤف ہوجاتا ہے اور اس میں خیر کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رہتی، ایسے شخص کا شمار اللہ تعالیٰ کے دفتر میں منافقوں میں ہوتا ہے، کہ ظاہر میں تو مسلمان ہے، مگر قلب ایمان کی حلاوت اور شیرینی سے محروم ہے، ایسے شخص کو اس گناہِ کبیرہ سے توبہ کرنی چاہئے اور حق تعالیٰ شانہ سے صدقِ دِل سے معافی مانگنی چاہئے۔

