بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

اللہ‌تعالیٰ‌نے‌جمعہ‌کو‌سیّد‌الایام‌بنایا‌ہے

سوال:۔

جمعہ مبارک کے روز کی اہمیت اور فضیلت کیا ہے؟ ذرا تفصیل سے لکھئے۔ الحمدللہ ہم تو مسلمان ہیں، جمعہ کی اہمیت اور فضیلت مانتے ہیں، لیکن ہم لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ اپنے مذہب کے متعلق کچھ زیادہ نہیں جانتے۔ ہمارے ایک ساتھی سے ایک کمپنی میں ایک سکھ نے پوچھ لیا کہ آپ لوگ جمعہ کے دن چھٹی کیوں کرتے ہو؟ تو ہمارے ساتھی کے پاس کوئی تاریخی جواب نہیں تھا، تو ہم بہت شرمندہ ہوگئے۔

جواب:۔

جمعہ کے دن کی فضلیت یہ ہے کہ یہ دن ہفتے کے سارے دنوں کا سردار ہے،(۱) ایک حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر دن جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن ان کو جنت سے نکالا (اور دُنیا میں) بھیجا گیا۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔(۲) ایک اور حدیث میں ہے کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اور اسی دن ان کی وفات ہوئی۔(۳) بہت سی احادیث میں یہ مضمون ہے کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس پر بندۂ مؤمن جو دُعا کرے وہ قبول ہوتی ہے۔(۴) جمعہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے دُرود پڑھنے کا حکم آیا ہے۔(۵) یہ تمام احادیث مشکوٰۃ شریف میں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث میں جمعہ کی فضیلت آئی ہے۔ اس سکھ نے جو سوال کیا تھا، اس کا جواب یہ تھا کہ یوں تو ہمارے مذہب میں کسی دن کی بھی چھٹی کرنا ضروری نہیں، لیکن اگر ہفتے میں ایک دن چھٹی کرنی ہو تو اس کے لئے جمعہ کے دن سے بہتر کوئی دن نہیں، کیونکہ یہودی ہفتے کے دن کو معظم سمجھتے ہیں، اور اس دن چھٹی کرتے ہیں، عیسائی اتوار کو لائقِ تعظیم جانتے ہیں اور اس دن چھٹی کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو جمعہ کے افضل ترین دن کی نعمت عطا فرمائی ہے، اور اس کو سیّد الایام بنایا ہے، اس لئے یہ دن اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کو عبادت کے لئے مخصوص کردیا جائے اور اس دن عام کاروبار نہ ہو۔

  1. (۱) عن أبی لبابۃ رضی اللہ عنہ قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إن یوم الجمعۃ سیّد الأیام ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۲۰)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خیر یوم طلعت علیہ الشمس یوم الجمعۃ فیہ خلق آدم وفیہ أدخل الجنۃ وفیہ أخرج منھا ولَا تقوم الساعۃ إلّا یوم الجمعۃ۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۱۲۰، باب الجمعۃ)۔
  3. (۳) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: خرجت إلی الطور ۔۔۔ فیہ خلق آدم وفیہ اھبط وفیہ یتب علیہ وفیہ مات وفیہ تقوم الساعۃ ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۲۰، باب الجمعۃ، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
  4. (۴) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن فی الجمعۃ لساعۃ لَا یوافقھا عبد مسلم یسأل اللہ فیھا خیرًا إلّا أعطاھا إیاہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۱۹، باب الجمعۃ، طبع قدیمی)۔
  5. (۵) عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أکثروا الصلٰوۃ علیّ یوم الجمعۃ فإنہ مشھود ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۲۱، باب الجمعۃ، طبع قدیمی)۔