بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

کیا‌سفر‌میں‌نمازیں‌ملاکر‌پڑھ‌سکتے‌ہیں؟

سوال:۔

ریڈیو کراچی کی صبح کی نشریات میں سفر کے دوران نمازیں قصر کرکے اور ان کو ملاکر پڑھنے کا جواب یوں دیا کہ سفر کے دوران نمازیں قصر تو پڑھنا ہوتی ہیں، لیکن اس کے علاوہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو ملاکر (یعنی اِکٹھے) پڑھا جاسکتا ہے۔ اگر یہ دُرست ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ظہر کا وقت ہو تو عصر کیسے قبل اَزوقت ملاکر پڑھ لیا جائے؟ یا پھر اگر عصر کا وقت ہے تو ظہر کی نماز کو کیوں قضا کیا جائے؟ یہی صورتِ حال مغرب اور عشاء میں سمجھ لیں۔

جواب:۔

ریڈیو والوں نے فقہِ حنفی کے مطابق مسئلہ نہیں بتایا، ہمارے نزدیک ایک نماز کو دُوسری کے وقت میں پڑھنا صحیح نہیں، کیونکہ اگر پہلی نماز کو بعد والی کے وقت میں پڑھا گیا تو پہلی قضا ہوجائے گی، اور بعد والی کو پہلی کے وقت میں پڑھا گیا تو چونکہ وہ ابھی تک (وقت سے پہلے) فرض ہی نہیں ہوئی، اس لئے اس کا ادا کرنا ہی صحیح نہ ہوگا۔ البتہ مسافر کو اِجازت ہے کہ پہلی نماز مثلاً ظہر کو اس کے آخری وقت میں، اور بعد والی مثلاً: عصر کو اس کے اوّل وقت میں اَدا کرے، اس طرح دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں ادا ہوں گی، مگر صورۃً جمع ہوجائیں گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اَسفار میں اسی طرح کرتے تھے۔(۱)

  1. (۱) وفی البحر وأما ما روی من الجمع بینھما فی وقت واحد محمول علی الجمع فعلًا بأن صلّی الأولٰی فی آخر وقتھا والثانیۃ فی أوّل وقتھا ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۱ ص:۲۶۷، کتاب الصلاۃ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔