مسافرکینماز
اگرمسافرکہیںقیامکرےتومؤکدہسنتیںپڑھنیضروریہیں؟
سوال:۔
نماز قصر کس طرح اور کتنی رکعت پڑھتے ہیں؟ تین مختلف آرا سننے میں آئی ہیں:
۱:۔ مسافرت میں فرائض کی قصر ہوگی، یعنی سوائے مغرب باقی نمازوں میں دو فرض، صبح کی نماز کی دو سنتیں اور عشاء کے تین وتر بھی ضروری ہیں، مغرب کی نماز میں تین فرض، ان کے مطابق نمازِ فجر کی دو سنتوں کے علاوہ دُوسری نمازوں میں سنتیں نہیں پڑھتے۔
۲:۔ سفر کے دوران یعنی ریل گاڑی، بس وغیرہ پر سفر کرتے ہوئے صرف فرائض قصر کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں، لیکن جب کہیں قیام کرلیا جائے تو سب مؤکدہ سنتیں بھی پڑھتے ہیں۔
۳:۔ سفر کے دوران یا قیام (مسافرت میں) کے دوران مؤکدہ سنتیں نہیں چھوڑتے، بلکہ فرائض تو قصر کے ساتھ پڑھتے ہیں، مگر سنتیں پوری پڑھتے ہیں۔
جواب:۔
سفر میں سنتیں پڑھنا ضروری نہیں، البتہ فجر کی سنتیں کسی حال میں نہیں چھوڑنی چاہئیں، باقی سنتیں گنجائش ہو تو پڑھ لینا اچھا ہے، نہ پڑھے تب بھی کوئی حرج نہیں۔(۱)
- (۱) ویأتی المسافر بالسُّنن إن کان فی حال أمن وقرار، وإلّا بأن کان فی خوف وفرار لَا یأتی بھا۔ ھو المختار۔ (درمختار)۔ قال الشامی: قیل: الأفضل الترک ترخیصًا، وقیل: الفعل تقربًا، وقال الھندوانی: الفعل حال النزول، والترک حال السیر، وقیل: یصلی سُنَّۃ الفجر خاصّۃً، وقیل: سُنّۃ المغرب أیضًا، بحر، قال فی شرح المنیۃ: والأعدل ما قالہ الھندوانی ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۲ ص:۱۳۱، باب صلاۃ المسافر)۔

