بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

سفر‌میں‌صرف‌فرض‌پڑھیں‌یا‌سنن‌ووتر‌بھی؟

سوال:۔

سفر میں مختصر نماز میں فرض پڑھ لیں اور باقی نمازیں پڑھیں یا نہیں؟ یا بغیر قصر کے پڑھ لیں؟

جواب:۔

سفر میں چار رکعت والی نماز کے دو فرض پڑھے جاتے ہیں۔ سنتوں میں اِختیار ہے، اگر وقت اور گنجائش ہو تو پڑھ لے، ورنہ چھوڑ دے، وتر پڑھنا واجب ہے۔(۱)

  1. (۱) وفرض المسافر فی الرباعیۃ رکعتان کذا فی الھدایۃ والقصر واجب عندنا کذا فی الخلاصۃ ۔۔۔ ولَا قصر فی السُّنن کذا فی محیط السرخسی وبعضھم جوزوا للمسافر ترک السُّنن والمختار أنہ لَا یأتی بھا فی حال الخوف ویأتی بھا فی حال القرار والأمن ھٰکذا فی الوجیز للکردری۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۹، الباب الخامس فی صلاۃ المسافر، طبع رشیدیہ)۔ أیضًا: وفرض المسافر فی الرباعیۃ رکعتان لَا یزید علیھما ۔۔۔إلخ۔ (فتح القدیر ج:۱ ص:۳۹۵، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر)۔ أیضًا: ویأتی المسافر بالسُّنن إن کان فی حال أمن وقرار، وإلّا بأن کان فی خوف وفرار لَا یأتی بھا، ھو المختار۔ (درمختار ج:۲ ص:۱۳۱، باب صلاۃ المسافر، طبع ایچ ایم سعید کراچی۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں: شرح مختصر الطحاوی للجصاص ج:۲ ص:۹۱ تا ۹۸، باب صلاۃ المسافر، طبع دار السراج، بیروت)۔