مسافرکینماز
اِماممسافرہےیامقیممعلومنہہوتواِقتداکسطرحکریں؟
سوال:۔
ایک ہوٹل کے پاس عصر کی نماز باجماعت ہو رہی تھی، وہاں ہم سے پہلے ایک گاڑی بھی کھڑی تھی، شاید اسی کی سواریاں ہوں، اور خیال نہ آیا کہ ہم پوچھ لیتے کہ اِمام مقیم ہے یا مسافر؟ لہٰذا نیت باندھ لی اور دو رکعت اِمام کے ساتھ پالی، اب ہم اِمام کے ساتھ سلام پھیرلیں یا چار پوری کریں؟ آئندہ ایسی صورت کا کیا علاج ہے؟ اور اس کا اِعادہ اگر کرنا ہے تو کتنی رکعت کا کروں جبکہ ہم مسافر تھے؟
جواب:۔
سوچ کر اندازہ کرنا چاہئے کہ یہ لوگ مسافر ہوں گے یا مقیم، جس طرف دِل مائل ہو اس کے مطابق نماز کو پڑھ لیا جائے، اور سلام پھیرنے کے بعد کسی سے پوچھ لیا جائے اور جو صورتِ حال سامنے آئے، اس پر عمل کیا جائے۔

