مسافرکینماز
اگرمسافراِمامنےچاررکعتیںپڑھائیںتو۔۔۔؟
سوال:۔
اگر مسافر اِمام ظہر کی نماز کو قصر کے بجائے پوری چار رکعت پڑھائے، مقیم مقتدیوں کی نماز دُرست ہے یا مقتدی نماز کو دوبارہ لوٹائیں؟ کیونکہ اِمام کے آخری دو رکعت نفل ہوتے ہیں، اس لئے فرض نماز پڑھنے والوں کی نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مسافر کے لئے دو رکعتیں ایسی ہیں جیسے فجر کی دو رکعتیں، جس طرح فجر کی دو رکعتوں پر اضافہ جائز نہیں،(۱) اسی طرح مسافر کا ظہر، عصر اور عشاء کی چار رکعتیں پڑھنا بھی جائز نہیں، جو مقیم ایسے اِمام کی اِقتدا کریں گے ان کی نماز تو ظاہر ہے کہ نہیں ہوگی، کیونکہ وہ دو رکعتوں میں نفل پڑھنے والے اِمام کی اِقتدا کر رہے ہیں۔(۲) اور خود اِمام اور اس کے مقتدی مسافروں کا حکم یہ ہے کہ اگر اِمام نے بھول کر چار رکعتیں پڑھی تھیں اور دُوسری رکعت پر قعدہ بھی کیا تھا اور آخر میں سجدۂ سہو بھی کرلیا تھا، تو ان کی نماز ہوگئی،(۳) اور اگر مسافر اِمام نے قصداً چار رکعتیں پڑھائیں اور دو رکعت پر قعدہ بھی کیا تھا، تو فرض تو ادا ہوگیا لیکن یہ شخص گناہگار ہوا، اس پر توبہ لازم ہے اور نماز کا اعادہ بھی واجب ہے۔(۴)
- (۱) صلی الفرض الرباعی رکعتین وجوبًا قولہ وجوبًا فیکرہ الْإتمام عندنا حتی روی عن أبی حنیفۃ أنہ قال: من أتم الصلاۃ فقد أساء وخالف السنۃ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۲ ص:۱۲۳، باب صلاۃ المسافر، أیضًا فتح القدیر ج:۱ ص:۳۵۹)۔
- (۲) ولَا یصح اِقتداء مفترض بمتنفل وبمفترض فرضًا آخر لأن إتحاد الصلاتین شرط عندنا ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۵۷۹، باب الْإمامۃ)۔
- (۳) ولَا یجب السجود إلّا بترک واجب أو تأخیرہ أو تأخیر رکن أو تقدیمہ أو تکرارہ أو تغییر واجب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۶، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی عشر فی سجود السھو)۔
- (۴) گزشتہ حاشیہ: کل صلاۃ أدیت۔۔۔ الخ ملاحظہ فرمائیں۔

