بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

اگر‌کسی‌نے‌دورانِ‌سفر‌پورے‌فرائض‌پڑھے‌تو‌کیا‌نماز‌ہوجائے‌گی؟

سوال:۔

دورانِ سفر فرض کتنے پڑھیں؟ اگر ہم فرض پورے پڑھیں تو کیا نماز ہوجائے گی؟ خواہ مسئلہ کسی کو معلوم ہو یا نہیں؟

جواب:۔

سفر میں چار رکعت والی نماز کی دو ہی رکعتیں فرض ہیں،(۱) جو شخص چار رکعتیں پڑھے اس کی مثال ایسی ہوگی کہ کوئی فجر کی دو رکعتوں کے بجائے ’’چار فرض‘‘ پڑھنے لگے، ظاہر ہے کہ اس کی نماز دُرست نہیں ہوگی، اور دوبارہ لوٹانا واجب ہوگا۔(۲)

  1. (۱) قال: وصلاۃ المسافر رکعتان إلّا المغرب والوتر فإنھما ثلاث ثلاث ۔۔۔ وقال ابن عباس: فرض اللہ الصلاۃ علٰی لسان نبیکم فی الحضر أربعًا وفی السفر رکعتین۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۹۱، ۹۲، باب صلاۃ المسافر)۔
  2. (۲) کل صلاۃ أدیت مع کراھۃ التحریم تجب إعادتھا۔ (درمختار ج:۱ ص:۴۵۷، باب صفۃ الصلاۃ)۔