مسافرکینماز
ریلگاڑیمیںنمازکسطرحپڑھے؟جبکہپانیتکپہنچنےپرقادرنہہو؟
سوال:۔
بعض اوقات دورانِ سفر ریل گاڑی میں اتنا زیادہ رش ہوتا ہے کہ بیت الخلاء جانا تو درکنار ایک سیٹ سے دُوسری سیٹ تک جانا دُشوار ہوجاتا ہے۔ تو ان حالات میں ایک تو آدمی کی وضو یا طہارت تک پہنچ نہیں ہوتی، دُوسرا یہ کہ نماز ادا کرنے کے لئے موزوں جگہ کا ملنا ناممکن ہوتا ہے، اور خاص کر جبکہ گاڑی کا رُخ کعبہ کی طرف ہو یا کعبہ سے مخالف سمت (مثلاً کراچی آنے جانے والی ریل گاڑیاں)، کیونکہ اس حالت میں اگر سیٹ پر جگہ مل بھی جائے تو نمازی سجدہ نہیں کرسکتا۔ تو حضور! ان مجبوریوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے نماز کا وقت ہونے پر نمازی نماز کس طرح ادا کرے؟
جواب:۔
ایسی مجبوری کی حالت کبھی شاذ و نادر ہی پیش آسکتی ہے، عام طور پر گاڑیوں میں رش تو ہوتا ہے، لیکن اگر ذرا ہمت سے کام لیا جائے تو آدمی کسی بڑے اسٹیشن پر نماز پڑھ سکتا ہے، بہرحال! اگر واقعی ایسی حالت پیش آجائے تو اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ نماز قضا کی جائے، لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ طہارت اور وضو حدِ اِمکان سے خارج ہو، یعنی نماز پڑھنا کسی طرح ممکن ہی نہ ہو۔(۱)
- (۱) والمحصور فاقد الماء والتراب الطھورین بأن حبس فی مکان نجس ولَا یمکنہ إخراج تراب مطھر وکذا العاجز عنھما لمرض یؤخرھا عندہ وقالَا یتشبہ۔ وفی الشامیۃ: قولہ یؤخرھا عندہ لقولہ علیہ السلام ’’لَا صلاۃ إلّا بطھور‘‘ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۲۵۲، باب الشھید)۔

