بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

ریل‌گاڑی‌میں‌نماز‌کس‌طرح‌ادا‌کی‌جائے؟

سوال:۔

ریل کے سفر میں اگر تختے پر بیٹھ کر نماز پڑھ لی جائے اور منہ قبلہ شریف کی طرف نہ ہو تو نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح نماز صحیح نہیں ہوتی، بعض کہتے ہیں کہ ہوجاتی ہے۔

جواب:۔

جو لوگ ریل کے تختے پر بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے ہیں، تین وجہ سے ان کی نماز صحیح نہیں ہوتی:

اوّل:۔ نماز کی جگہ کا پاک ہونا شرط ہے،(۱) اور ریل کے تختے کا پاک ہونا مشکوک ہے، آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ چھوٹے بچے ان پر پیشاب کردیتے ہیں۔

دوم:۔ نماز میں قبلہ کی طرف رُخ کرنا ضروری ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی، اور ناواقف لوگوں کا یہ خیال کہ سفر میں قبلہ رُخ کی پابندی نہیں، غلط ہے۔ سفر میں بھی قبلہ رُخ کرنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح وطن میں ضروری ہے، بلکہ شریعت کا حکم تو یہ ہے کہ سفر میں نماز کے دوران اگر قبلہ کا رُخ بدل جائے تو نمازی اسی حالت میں قبلہ کی طرف گھوم جائے۔(۲) ہاں! سفر میں قبلہ رُخ کا پتہ نہ چلے اور کوئی صحیح رُخ بتانے والا بھی موجود نہ ہو، تو خوب غور و فکر اور سوچ بچار سے کام لے کر خود ہی اندازہ لگالے کہ قبلہ کا رُخ اس طرف ہوگا، اور اسی رُخ پر نماز پڑھ لے، اب اگر نماز کے بعد معلوم ہوا کہ اس نے جس رُخ نماز پڑھی ہے وہ قبلہ کی سمت نہیں تھی، تب بھی اس کی نماز ہوگئی، دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں، اور اگر نماز کے اندر ہی قبلہ رُخ کا پتہ چل جائے تو نماز توڑنے کی ضرورت نہیں، نماز کے اندر ہی قبلہ رُخ کی طرف گھوم جائے۔(۳)

سوم:۔ نماز میں قیام یعنی کھڑا ہونا فرض ہے، آدمی خواہ گھر پر ہو یا سفر میں، جب تک اسے کھڑے ہونے کی طاقت ہے بیٹھ کر نماز صحیح نہ ہوگی،(۴) اور اس میں مردوں کی تخصیص نہیں، عورتوں کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ بعض مستورات بیٹھ کر نماز پڑھ لیتی ہیں، یہ جائز نہیں، فرض اور وتر ان کو بھی کھڑے ہوکر پڑھنا لازم ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی، البتہ نوافل بیٹھ کر پڑھ سکتی ہیں۔

سفر میں بعض پکے نمازی بھی نمازیں قضا کردیتے ہیں، عذر یہ کہ ایسے رش میں نماز کیسے پڑھیں؟ یہ بڑی کم ہمتی اور غفلت کی بات ہے، اور پھر ریل میں کھانا پینا اور دیگر طبعی حوائج کا پورا کرنا بھی تو مشکل ہوتا ہے، لیکن مشکل کے باوجود ان طبعی حوائج کو بہرحال پورا کیا جاتا ہے، آدمی ذرا سی ہمت سے کام لے تو مسلمان کیا، غیرمسلم بھی نماز کے لئے جگہ دے دیتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض حضرات حج کے مقدس سفر میں بھی نماز کا اہتمام نہیں کرتے، وہ اپنے خیال میں تو ایک فریضہ ادا کرنے جارہے ہیں، مگر دن میں خدا کے پانچ فرض غارت کردیتے ہیں، حاجیوں کو یہ اہتمام کرنا چاہئے کہ سفرِ حج کے دوران ان کی ایک بھی نماز باجماعت فوت نہ ہو، بلکہ ریل میں اَذان، اِقامت اور جماعت کا بھی اہتمام کرنا چاہئے۔

  1. (۱) تطھیر النجاسۃ من بدن المصلی وثوبہ والمکان الذی یصلی علیہ واجب ھٰکذا فی الزاھدی فی باب الأنجاس۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۸، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث فی شروط الصلاۃ)۔
  2. (۲) وتجوز صلاۃ الفریضۃ فی السفینۃ والطائرۃ والسیارۃ ۔۔۔ ویشترط التوجہ للقبلۃ فی بدء الصلاۃ، ویستدیر إلیھا کلما استدارت السفینۃ ولو ترک الْإستقبال لَا تجزئہ الصلاۃ، وإن عجز عن الْإستقبال یمسک عن الصلاۃ حتّٰی یقدر علی الْإتمام مستقبلًا۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۲ ص:۵۴، تتمۃ الصلاۃ، الصلاۃ فی السفینۃ، طبع دار الفکر، بیروت)۔
  3. (۳) وإن اشتبھت علیہ القبلۃ ولیس بحضرتہ من یسألہ منھا اجتھد وصلی، فإن علم أنہ أخطأ بعد ما صلی لَا یعیدھا، وإن علم وھو فی الصلاۃ استدار إلی القبلۃ وبنی علیھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶۴، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث فی شروط الصلاۃ)۔
  4. (۴) ومنھا القیام وھو فرض فی صلاۃ الفرض والوتر۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶۹، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع فی صفۃ الصلاۃ)۔