مسافرکینماز
کیاریلمیںسیٹپربیٹھکرکسیطرفبھیمنہکرکےنمازپڑھسکتےہیں؟
سوال:۔
اخبارِ جہاں میں بعنوان کتاب و سنت کی روشنی میں، ایک مسئلہ لکھا ہے، جس کی عبارت یہ ہے: ’’(سوال) اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ ریل گاڑی اور بسوں میں بوقتِ نماز نمازی لوگ سیٹ پر بیٹھ کر جس طرف بھی منہ ہو نماز پڑھ لیتے ہیں، کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ (جواب) نماز ہوجاتی ہے۔‘‘ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب:۔
نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنا شرط ہے،(۱) اور قیام بشرطِ قدرت فرض ہے،(۲) فرض اور شرط فوت ہوجانے سے نماز بھی نہیں ہوتی۔ اخبارِ جہاں کا لکھا ہوا مسئلہ غلط ہے، ریل میں کھڑے ہوکر قبلہ رُخ نماز پڑھنی چاہئے۔
- (۱) ومنھا القیام وھو فرض فی صلاۃ الفرض والوتر للقادر علیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶۹، کتاب الصلاۃ، باب الرابع فی صفۃ الصلاۃ)۔ أیضًا: ثم الشرط (ھی) ستۃ ۔۔۔ والسادس (إستقبال القبلۃ) حقیقۃً أو حکمًا کعاجز والشرط حصولہ لَا طلبہ، وھو شرط زائد للإبتلاء ویسقط للعجز۔ (درمختار ج:۱ ص:۴۲۷، باب شروط الصلاۃ)۔ أیضًا: ومن أراد أن یصلی فی سفینۃ فرضًا أو نفلًا فعلیہ أن یستقبل القبلۃ متی قدر علٰی ذالک، ولیس لہ أن یصلی إلٰی غیر جھتھا ۔۔۔ ومحل کل ذالک إذا خاف خروج الوقت قبل أن تصل السفینۃ أو القاطرۃ إلی المکان الذی یصلی فیہ صلاۃ کاملۃ، ولَا تجب علیہ الْإعادۃ، ومثل السفینۃ القطر البخاریۃ البریۃ والطائرات الجویۃ ونحوھا ۔۔۔إلخ۔ (کتاب الفقہ علی المذاھب الأربعۃ للجزائری ج:۱ ص:۲۰۶، کتاب الصلاۃ، مبحث صلاۃ الفرض فی السفینۃ وعلی الدابۃ ونحوھا، طبع دار إحیاء التراث العربی بیروت)۔
- (۲) أیضا۔

