مسافرکینماز
چلتیٹرینمیںبیٹھکرنمازپڑھنا
سوال:۔
چلتی ٹرین میں بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اکثر لوگ برتھ پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں، (قبلہ رُو ہوئے بغیر) قیام کرنا ضروری ہے (اس حالت میں) یا نہیں؟
جواب:۔
ٹرین میں نماز پڑھتے ہوئے قیام فرض ہے، بشرطیکہ کھڑے ہونے پر قدرت ہو، اور قبلہ رُخ نماز اَدا کرنا شرط ہے، تختے پر بیٹھ کر نماز پڑھنا دُرست نہیں۔(۱)
- (۱) ومنھا القیام وھو فرض فی صلاۃ الفرض والوتر للقادر علیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶۹، کتاب الصلاۃ، باب الرابع فی صفۃ الصلاۃ)۔ أیضًا: ثم الشرط (ھی) ستۃ ۔۔۔ والسادس (إستقبال القبلۃ) حقیقۃً أو حکمًا کعاجز والشرط حصولہ لَا طلبہ، وھو شرط زائد للإبتلاء ویسقط للعجز۔ (درمختار ج:۱ ص:۴۲۷، باب شروط الصلاۃ)۔ أیضًا: ومن أراد أن یصلی فی سفینۃ فرضًا أو نفلًا فعلیہ أن یستقبل القبلۃ متی قدر علٰی ذالک، ولیس لہ أن یصلی إلٰی غیر جھتھا ۔۔۔ ومحل کل ذالک إذا خاف خروج الوقت قبل أن تصل السفینۃ أو القاطرۃ إلی المکان الذی یصلی فیہ صلاۃ کاملۃ، ولَا تجب علیہ الْإعادۃ، ومثل السفینۃ القطر البخاریۃ البریۃ والطائرات الجویۃ ونحوھا ۔۔۔إلخ۔ (کتاب الفقہ علی المذاھب الأربعۃ للجزائری ج:۱ ص:۲۰۶، کتاب الصلاۃ، مبحث صلاۃ الفرض فی السفینۃ وعلی الدابۃ ونحوھا، طبع دار إحیاء التراث العربی بیروت)۔

