بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

کیا‌دورانِ‌سفر‌نماز‌کی‌ادائیگی‌ضروری‌ہے؟‌نیز‌کس‌طرح‌ادا‌کرے؟

سوال:۔

نماز کا وقت اگر دورانِ سفر آجائے، تو کیا سواری پر بیٹھ کر نماز اَدا کی جاسکتی ہے، یا منزل پر پہنچ کر اَدا کی جائے؟ اور اس کا طریقہ کیا ہے؟

جواب:۔

اگر منزل پر وقت سے پہلے پہنچ جائیں گے تو منزل پر نماز اَدا کی جاسکتی ہے، لیکن وقت گزرنے کا اندیشہ ہو تو سواری پر کھڑے ہوکر قبلے کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرے، بلاوجہ سیٹ پر بیٹھ کر قبلہ رُخ ہوئے بغیر نماز پڑھنا دُرست نہیں، اگر کھڑے ہونے کی جگہ نہ ہو اور قبلہ رُخ ہونے کا اِمکان نہ ہو تو اس صورت میں سواری پر بیٹھ کر نماز اَدا کی جاسکتی ہے۔(۱)

  1. (۱) الفریضۃ فی السفینۃ والطائرۃ والسیارۃ قاعدًا ولو بلا عذر عند أبی حنیفۃ ۔۔۔ وقال الصاحبان لَا تصح إلّا لعذر، والعذر کدوران الرأس، وعدم القدرۃ علی الخروج، ویشترط التوجہ للقبلۃ فی بدأ الصلاۃ ۔۔۔ ولو ترک الْإستقبال لَا تجزئہ الصلاۃ، وإن عجز عن الْإستقبال یمسک عن الصلاۃ حتّٰی یقدر علی الْإتمام مستقبلًا ۔۔۔إلخ۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۲ ص:۵۴، تتمۃ الصلاۃ، الصلاۃ فی السفینۃ، طبع دار الفکر، بیروت، أیضًا: عالمگیری ج:۱ ص:۶۳، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث فی شروط الصلاۃ، طبع رشیدیہ)۔