بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

قدرت‌ہو‌تو‌ٹرین‌میں‌نماز‌کھڑے‌ہوکر‌پڑھنا‌ضروری‌ہے،‌اور‌قبلہ‌رُخ‌تو‌ہر‌حال‌میں‌ضروری‌ہے

سوال:۔

آپ نے ۲۹؍ستمبر ۱۹۹۵ء کے اخبار میں چند مسائل ذکر کئے ہیں، ایک مسئلہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا، اخبار میں مسئلہ یوں تھا:

’’سوال: چلتی ٹرین میں نماز بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں؟ اکثر لوگ برتھ پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں (قبلہ رُو ہوئے بغیر) قیام کرنا ضروری ہے اس حالت میں یا نہیں؟

سوال:۔

آپ نے لکھا ہے کہ تختے پر بیٹھ کر نماز پڑھنا دُرست نہیں، عرض یہ ہے کہ برتھ تختے کا ہے، اس پر کھڑے ہوکر کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا، اور سیٹ بھی تختے کی ہوتی ہے، ٹرین میں اکثر زیادہ رَش ہوتا ہے، جس کی وجہ سے پوری سیٹ نماز کے لئے خالی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، اور سیٹ کے نیچے راستہ ہوتا ہے جس پر نماز پڑھنا صحیح نہیں ہوتا۔

جواب:

ٹرین میں نماز پڑھتے ہوئے قیام فرض ہے، بشرطیکہ کھڑے ہونے پر قدرت ہو، اور قبلہ رُخ نماز ادا کرنا شرط ہے، تختے پر بیٹھ کر نماز اَدا کرنا دُرست نہیں۔‘‘

اب ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ چلتی ٹرین میں قبلہ رُخ ہونا بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اگر ٹرین قبلہ رُخ جارہی ہو تو ہم برتھ پر یا سیٹ پر قبلہ رُخ کھڑے نہیں ہوسکتے، کیونکہ برتھ اور سیٹ پر شمال اور جنوب کی طرف کھڑے ہوسکتے ہیں۔

جواب:۔

جب نماز شروع کریں تو قبلہ رُخ ہو، جب نماز کے دوران ٹرین کا رُخ بدل جائے تو نمازی قبلے کی طرف گھوم جائے، غرضیکہ رُخ قبلے کی طرف رہنا چاہئے، بشرطیکہ پتا چل جائے۔(۱)

جواب:۔

پوری سیٹ خالی کرانے کی ضرورت نہیں، نیچے فرش پر نماز پڑھی جائے اور دو منٹ کے لئے نمازیوں سے کہا جائے کہ دُوسرے کی جگہ بنادیں، میں ہمیشہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی کوشش کرتا تھا، واللہ اعلم!

  1. (۱) لَا یجوز لأحد أداء فریضۃ ولَا نافلۃ ولَا سجدۃ تلاوۃ ولَا صلاۃ جنازۃ إلّا متوجھًا إلی القبلۃ ۔۔۔ ومن أراد أن یصلی فی سفینۃ تطوعًا أو فریضۃ فعلیہ أن یستقبل القبلۃ ولَا یجوز لہ أن یصلی حیثما کان وجھہ حتی لو دارت السفینۃ وھو یصلی توجہ إلی القبلۃ حیث دارت ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶۴، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث فی شروط الصلاۃ، الفصل الثالث فی إستقبال القبلۃ، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔