بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

بحری‌جہاز‌اور‌نماز‌قصر

سوال:۔

میری ملازمت غیرملکی بحری جہاز پر ہے، جہاز پر ہماری رہائش بہت اچھی ہوتی ہے، یعنی کمرہ ایئرکنڈیشنڈ ہوتا ہے، قالین بچھا ہوتا ہے، کیا اس صورت میں ہم نماز قصر کریں اور قصر کی صورت میں سنت بھی ادا کرنی پڑے گی؟

جواب:۔

سفر کی حالت میں نماز ’’قصر‘‘ ہوگی، اگر فرصت ہو، فراغت ہو تو سنتیں پڑھی جائیں، ورنہ نہ پڑھنے میں گناہ نہیں۔(۱)

عن عائشۃ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنھا قالت: فرض اللہ الصلاۃ حین رکعتین رکعتین فی الحضر والسفر، فاقرت صلاۃ السفر، وزید فی صلاۃ الحضر۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۵۱، کتاب الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلاۃ فی الْإسراء)۔ وقال عمران بن حصین: ما رأیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی السفر إلّا رکعتین، وصلی بمکۃ رکعتین۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۹۳، باب صلاۃ المسافر)۔

واحترز بالفرض عن السنن والوتر بالرباعی عن الفجر والمغرب ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۱۲۳)، ویأتی المسافر بالسنن إن کان فی حال أمن وقرار وإلّا بأن کان فی خوف وفرار لَا یأتی بھا ھو المختار ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۲ ص:۱۳۱، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، طبع سعید)۔

  1. (۱) اور مسافر کو قصر نماز پڑھنے کا حکم ہے۔